.

غزہ میں 11 روز کے خونی کھیل کے بعد حماس اور اسرائیل میں‌ جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور اسلامی تحریک مزحمت 'حماس' کے درمیان جاری لڑائی کے گیارہ روز بعد دونوں فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

گذشتہ شب اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی کی تجویز پر رائے شماری کی۔ رائے شماری کے دوران کثرت رائے سے جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔

اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ جنگ بندی کی تجویز مصر اور بعض دوسرے ممالک کی طرف سے دی گئی ہے۔ یہ جنگ بندی غیر مشروط ہوگی۔ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق رات دوبجے نافذ ہوجائے گی۔

ادھر فلسطینی گروپوں نے بھی غزہ کے علاقے میں جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دو بجے سے جنگ بندی پرعمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت تک جنگ بندی پرعمل درآمد کریں گے جب قابض اسرائیل کرے گا۔ اگر اسرائیل نے جنگ بندی معاہدہ توڑا تو ہم بھی اس پر قائم نہیں رہیں گے۔

ادھر مصر کے سرکاری ٹی وی چینل نے جمعرات کی شام کو بتایا تھا کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ اور اسرائیل جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی مصر صدر عبدالفتاح السیسی کی کوششوں سے عمل میں لائی گئی ہے۔ صدر السیسی جلد ہی فلسطینی اراضی اور اسرائیل کے پاس دو الگ الگ وفود بھیجیں گے تاکہ جنگ بندی معاہدے پرعمل درآمد کیا جاسکے۔

اسی سیاق میں اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل حماس کی قیادت اور اس کے عسکری ونگ کے سربراہ کے خلاف حملے جاری رکھے گا۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی سے کوئی بھی گولہ یا آتش گیر غبارہ داغاگیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائےگا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ فوج اب ابھی کسی بھی صورت حال کے لیے الرٹ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کسی بھی ممکنہ صورت حال میں اسرائیلی فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع بینی گینٹز جنگ بندی یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کریں‌ گے۔

العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق مصرنے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کےلیے موثر کوششیں کررہا ہے۔ العربیہ چینل کے مطابق مصر کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز پر اسرائیلی کابینہ میں رائے شماری کی گئی۔

درایں اثنا حماس کے ایک ذمہ دار نے متبادل فائر بندی کی تجویز پرعمل درآمد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات دو بجے سے فریقین نے جن بندی پرعمل درآمد شروع کردیا ہے۔
خیال رہے کہ11 روز قبل غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی ہونے والی مسلسل بمباری میں اب تک اڑھائی سو فلسطینی شہید اور ڈیڑھ ہزار کے قریب زٰخمی ہوگئے تھے۔ شہدا اور زخمیوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بتائی جاتی ہے۔