.

آئی اے ای کواب ایرانی جوہری تنصیبات کی تصاویر تک رسائی نہیں ہوگی:اسپیکرپارلیمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور ایران کے درمیان مؤخرالذکر کی جوہری تنصیبات کی مانیٹرنگ کے لیے سمجھوتے کی مدت ختم ہوگئی ہے۔اب اتوار سے آئی اے ای اے کو ایران کی جوہری تنصیبات کی نگرانی کے لیے تصاویر(امیجز) تک رسائی حاصل نہیں رہی ہے۔

ایرانی پارلیمانی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ اب عالمی ادارے کی جوہری تنصیبات کے امیجز تک رسائی معطل کردی جائے گی۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافاعل گراسی جوہری تنصیبات کی نگرانی کے انتظامات میں توسیع کے لیے ایرانی حکام سے بات چیت کررہے ہیں لیکن ابھی تک اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

محمد باقرقالیباف نے سرکاری ٹی وی سے کہا کہ 22 مئی سے سہ ماہی سمجھوتے کی مدت ختم ہوگئی ہے۔اب ایجنسی کو جوہری تنصیبات کے اندر نصب کیمروں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

تاہم ایران کے سرکاری ٹی وی نے ایک بے نامی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایجنسی اور تہران کے درمیان سمجھوتے میں مشروط طور پر ایک ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔

ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے رکن کا کہنا ہے کہ ’’اگر اس سمجھوتے میں ایک ماہ کی توسیع کی جاتی ہے اور اس عرصہ کے دوران میں بڑی طاقتیں ایران کے قانونی مطالبات کو تسلیم کرلیتی ہیں تو پھرایجنسی کو ڈیٹا فراہم کردیا جائے گا۔دوسری صورت میں امیجز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حذف کردیا جائے گا۔‘‘

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ویانا میں اپریل کے بعد سے مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں۔ان میں امریکا کی جوہری سمجھوتے میں دوبارہ واپسی اور ایران کے لیے مجوزہ اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔امریکا اور عالمی طاقتیں ایران سے پابندیوں کے خاتمے کے لیے جوہری سمجھوتے کی مکمل پاسداری کا تقاضا کررہی ہیں۔

ایران 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی اور اس کی شرائط کی پاسداری سے قبل امریکا سے تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے۔ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے اگلے روز کہا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف عاید کردہ بہت سی پابندیوں کو ختم کرنے پرآمادگی ظاہر کی ہے لیکن تہران مزید اقدامات کا مطالبہ کررہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ’’ایران ان مذاکرات میں سنجیدگی سے حصہ تو لے رہا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ تہران سمجھوتے کی بحالی کی صورت میں اس کے تقاضوں کی کس طرح پاسداری کرے گا۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8مئی 2018ء کو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کے ردعمل میں ایران نے جوہری سمجھوتے کی شرائط کی مرحلہ وار پاسداری نہ کرنے کااعلان کیا تھا اور اس نے یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔

یورپی ممالک ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی صرف اصل شکل میں بحالی چاہتے ہیں اور وہ ایران کی مشرقِ اوسط کے خطے میں دوسری سرگرمیوں پرقدغنیں لگانے پر زور نہیں دے رہے ہیں جبکہ امریکا خطے میں ایران کے تخریبی کردار کا بھی خاتمہ چاہتا ہے اور وہ اس سے متعلق بعض شقوں کا اضافہ چاہتا ہے۔

ایران ان مذاکرات میں اپنے منجمد فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کے تیل کی آمدن کی مد میں 20 ارب ڈالر جنوبی کوریا ، عراق اور چین ایسے ممالک میں منجمد پڑے ہیں۔ان ممالک نے نومبر 2018ء میں ایران کے خلاف امریکا کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ان رقوم کو منجمد کرلیا تھا اور اب تک ایران کو یہ جاری نہیں کی ہیں۔