.

قطر کا لیبیا میں قومی اتحاد کی حکومت اور سیاسی عمل کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر نے خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں بین الاقوامی حمایت سے جاری سیاسی عمل اور قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

قطری وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثاثی نے اتوار کے روزلیبی دارالحکومت طرابلس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم اقوام متحدہ کی حمایت سے جاری سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہیں،اس امید کے ساتھ کہ لیبیا کی علاقائی خودمختاری کا تحفظ کیا جاسکے اور اس کے داخلی امورمیں غیرملکی مداخلت کو روکا جاسکے۔‘‘

انھوں نے لیبیا کی وزیرخارجہ نجلہ المنقوش کے ساتھ اپنی بات چیت کو مفید قراردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے لیبیا میں عبوری عمل کی حمایت سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کیا ہے اور قطر کا اس ضمن میں عزم پختہ ہے۔‘‘

لیبیا میں نئی عبوری حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے متعدد ممالک نے طرابلس میں اپنے سفارت خانے دوبارہ کھول لیے ہیں۔نجلہ منقوش نے توقع ظاہر کی ہے کہ قطر بھی بہت جلد اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول لے گا۔

انھوں نے قطری وزیرخارجہ کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے خیال میں میرے پاس ایک اچھی خبر ہے۔‘‘تاہم انھوں نے اس خبرکی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں گذشتہ سال اکتوبر میں لیبیا کے متحارب گروپوں نے ایک مفاہمتی سمجھوتے پر دست خط کیے تھے اور اس کے نتیجے میں ملک میں قومی اتحاد کی واحد حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

لیبیا کی پارلیمان نے مارچ میں وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ کے زیر قیادت قومی اتحاد کی اس نئی حکومت کی منظوری دی تھی اور اس کے بعد اس نے ملک کا نظم ونسق سنبھالا تھا۔اس سے پہلے طرابلس اور ملک کے مشرقی شہر بنغازی میں قائم الگ الگ حکومتوں کو تحلیل کردیا گیا تھا۔اب اس نئی عبوری حکومت کی نگرانی میں دسمبر میں عام انتخابات منعقد ہوں گے۔

واضح رہے کہ لیبیا 2011ء سابق مطلق العنان صدر معمرقذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے اور ملک میں دومتوازی حکومتیں چلتی رہی ہیں۔ قطر اور ترکی طرابلس میں وزیراعظم فائزالسراج کے زیر قیادت قائم قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت کرتے رہے تھے جبکہ متحدہ عرب امارات ، روس اور مصر جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کی اتحادی مشرقی حکومت کے حامی تھے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت لیبیا میں 20 ہزار سے زیادہ جنگجو اور فوجی موجود ہیں۔ان میں ترک ، روسی ، سوڈانی اور چاڈ کے جنگجو اور فوجی شامل ہیں۔