.

مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال اذان اور اقامت تک محدود کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی تمام مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے نئے ضابطوں کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت بیرونی لاؤڈ سپیکر اذان اور اقامت تک محدود ہوں گے۔

تفصیل کے مطابق وزیر اسلامی امور، دعوت و ارشاد ڈاکٹر عبد اللطیف آل الشیخ نے ہدایت جاری کر دی ہے۔

جاری ہونے والی ہدایت میں ملک کی مساجد کے ائمہ اور موذنین کو ہدایت دی گئی کہ وہ اذان اور اقامت کے علاوہ بیرونی لاؤڈ سپیکر کا استعمال نہ کریں۔

وزارت کی ہدایت کے مطابق تمام مساجد میں بیرونی لاؤڈ سپیکر کی آواز والیوم کی پوری طاقت کے ایک تہائی ہوگی۔

وزارت اسلامی امور نے تمام ریجنوں اور کمشنریوں میں اپنے ذیلی دفاتر سے کہا ہے کہ ’مساجد میں نئی ہدایات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے‘۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’دیکھا گیا ہے کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال بغیر کسی ضابطے کے ہورہا ہے جس کے باعث مساجد کے پڑوس میں واقع گھروں کے رہائشیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘۔

’خاص طور پر مریض، معمر اور بچوں کو مساجد سے آنے والی اونچی آوازوں سے تکلیف ہوتی ہے‘۔

’علاوہ ازیں بے ضابطہ استعمال کی وجہ سے محلے کی مختلف مساجد کے ائمہ کی آوازیں ایک ہی وقت میں اٹھتی ہیں تو ان سے لوگ پریشان ہوتے ہیں‘۔

’وزارت نے جو ہدایت نامہ جاری کیا ہے وہ شرعی دلائل پر مبنی ہے جن کی روشنی میں معلوم ہوا ہے کہ امام کی آواز مسجد کے اندر موجود نمازیوں تک پہنچانا ضرورت ہے مگر مسجد کے باہر لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت نہیں‘۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’بیرونی لاؤڈ سپیکر پر امام کی تلاوت کو اگر سنا نہ جائے تو اس سے خود قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے‘۔
’مذکورہ ہدایت علامہ شیخ محمد بن صالح العثیمین اور علامہ ڈاکٹر صالح الفوزان کے فتوے سے بھی ماخوذ ہے جس میں اذان اور اقامت کے علاوہ بیرونی لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے‘۔