.

کرونا کو پر لگ گئے، دنیا کی بلند ترین چوٹی پرکوہ پیما بھی وبا کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا کی وبا سے دنیا کا کوئی حصہ محفوظ نہیں۔ یہاں تک کہ وبا دنیا کے بلند ترین مقامات تک بھی پہنچ گئی ہے۔

ایک رپورٹ کےمطابق کوہ ہمالیہ کی بلندیوں پرکوہ پیمائی کے لیے آنے والے کوہ پیما بھی وبا کا شکار ہونے لگے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک آسٹرین کوہ پیما نے بتایا کہ نیپال میں 'جنوبی ایوریسٹ بیس کیمپ' میں‌موجود کم سے کم 100 افراد کرونا سے متاثر ہیں۔

اخبار Lukas Furtenbach کے مطابق نیپالی حکام نے کوہ ہمالیہ کے بیس میں موجود لوگوں میں کرونا وبا پھیلنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیس کیمپ میں کوئی 1500 افراد موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلند ترین چوٹی ایورسٹ پر کوہ پیمائی کے لیے 43 گروپ موجود ہیں تاہم یہ بات درست نہیں کہ ان میں‌ کرونا کے مریض ہیں۔

آسٹرین کوہ پیما 'فورینٹنباخ' نے بتایا کہ کوہ ہمالیہ میں کرونا کی موجودگی کی بات اس لیے درست کیونکہ انہوں نے بھی اپنا مشن ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ ان کےایک گائیڈ نے بتایا تھا کہ وہ بھی کرونا کا شکار ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ' نیپال میں Sherpas یا مشرقی قوم کے نام سے ایک گروپ کے 6 افراد بھی کرونا کا شکار ہیں۔ اس لیے وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیس کیمپ میں کم سے کم 100 افراد کرونا کا شکار ہوسکتے ہیں جب کہ زیادہ سے سے زیادہ متاثرین کی تعداد 150 سے 200 کے درمیان ہوسکتی ہے۔