.

ایران:انسانی حقوق کی معروف کارکن نرجس محمدی کوڈھائی سال قیداور80کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کی معروف کارکن نرجس محمدی کومختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر ڈھائی سال قید ، 80 کوڑوں اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ان کے خاوند تقی رحمانی نے اتوار کو انسٹاگرام پرعدالت کے اس فیصلے کی اطلاع دی ہے۔عدالت نے انھیں ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈے ،سزائے موت کے خلاف مہم چلانے اور دسمبر 2019ء میں جیل میں حکومت مخالف مظاہرین کے حق میں دھرنا دینے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزا سنائی ہے۔

48 سالہ نرجس محمدی دفاع انسانی حقوق مرکز کی خاتون ترجمان ہیں۔انسانی حقوق کی اس تنظیم پرایران میں پابندی عاید ہے اور اس کے کارکنان بیرون ملک سرگرم ہیں۔اسی تنظیم کی شریک بانی شیریں عبادی کو 2003ء میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نرجس محمدی کو قبل ازیں ایران کی ایک عدالت نے مختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر 16 سالہ قید کی سزا سنائی تھی۔البتہ انھیں پانچ سالہ قید بھگتنے کے بعد اکتوبر 2020ء میں جیل سے رہا کردیا گیا تھا اور ان کی سزائے قید کم کردی گئی تھی۔

مگر جیل سے رہائی کے باوجود ایرانی حکام نے نرجس محمدی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔وہ 2015ء سے ایران میں تنہا ہی رہ رہی ہیں اور ان کے دونوں بچے اورخاوند تقی رحمانی فرانس میں مقیم ہیں۔