.

یہ بھارت ہے:پولیس کا پوسٹ ٹیگ کے مسئلہ پرٹویٹر کے کنٹری ڈائریکٹر کو نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی پولیس نے نئی دہلی میں مائیکروبلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر کے کنٹری ڈائریکٹر کو ایک پوسٹ ٹیگ کے معاملے پر نوٹس جاری کردیا ہے۔ ٹویٹر پرایسی ایک پوسٹ کو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان نے بھی ٹیگ کیا تھا۔ٹویٹر نے اس کو’’مسخ شدہ میڈیا‘‘ کے زمرے میں شمار کیا ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی کی جماعت بی جے پی کے لیڈروں نے حال ہی میں ٹویٹر پر ایک دستاویز کے بعض حصے جاری کیے تھے اور یہ کہا تھا کہ اس دستاویز کو حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے تخلیق کیا تھا۔اس میں مودی حکومت کی کووِڈ-19 کی وَبا سے نمٹنے میں ناکامی کو اجاگر کیا گیا تھا۔

کانگریس نے ٹویٹر کو یہ شکایت کی ہے کہ یہ دستاویز من گھڑت ہے۔اس کے بعد امریکی کمپنی نے بعض پوسٹوں کو نشان زد کیا تھا۔ان میں سے ایک بی جے پی کے ترجمان سمبیت پترا کی بھی تھی۔اس کو ٹویٹر نے’’مسخ شدہ میڈیا‘‘کے زمرے میں شمار کیا ہے۔

دہلی پولیس نے سوموارکوایک بیان میں کہا ہے کہ اس کو سمبیت پترا کی ٹویٹ کی درجہ بندی سے متعلق ایک شکایت موصول ہوئی ہے اوراس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔حکام کی ایک ٹیم تحقیقاتی نوٹس دینے کے لیے ٹویٹر کے علاقائی دفتر میں گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ٹویٹرانڈیا کے ایم ڈی کا جواب بہت ہی مبہم تھا۔اس لیے ٹیم ٹویٹرکے دفتر میں گئی ہے تاکہ کسی ذمہ دارشخص کو نوٹس تھمایا جاسکے۔

ٹویٹر کا کہنا ہے کہ’’مسخ شدہ میڈیا‘‘ کا ٹیگ ان پوسٹوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن میں ایسی ویڈیوز ،آڈیو اور امیجز شامل ہوتے ہیں جنھیں دھوکا دہی سے تبدیل کیا گیا ہو یا جعل سازی سے بنایا گیا ہے۔تاہم اس نے اس معاملے پر کسی تبصرے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ ٹویٹر کی بھارتی شاخ اورمودی انتظامیہ کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔بھارتی حکومت کروناوائرس کی وبا کے دوران میں کئی مواقع پر سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم سے اپنے خلاف تنقیدی پوسٹوں کو ہٹانے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

مودی حکومت نے گذشتہ ماہ ٹویٹر سے بیسیوں ٹویٹس کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ان میں سے بعض مقامی قانون سازوں نے پوسٹ کی تھیں۔ان میں کروناوائرس کی وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بھارت میں اب تک کووِڈ-19 کے دوکروڑ ساڑھے67لاکھ کیسوں کی تصدیق کی ہے۔امریکا کے بعد وہ کروناوائرس کے کیسوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پرہے۔ بھارت میں اب تک کووِڈ-19 سے تین لاکھ سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔اسی بناپر مودی حکومت کو کروناوائرس کی وبا سے نمٹنے میں ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے۔