.

حزب اللہ کا نصاب ، حوثی ملیشیا اسکول کے بچوں کو بھرتی کرنے میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے سمر کیمپ کے نام سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ماہرین کے تیار کردہ نصاب کے مطابق اسکولوں کے بچوں کو بھرتی کرنے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مہم آخری چند ماہ میں مارب کے معرکوں میں کسی بھی پیش قدمی کو یقینی بنانے میں ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کا مقصد اپنے جانی نقصانات کی تلافی کرنا ہے۔

مذکورہ مہم میں مختلف مرحلوں کے طلبہ کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ صنعاء میں ایک ٹیچر نے عربی روزنامے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مہم کے ذریعے بچوں کے ذہنوں میں شدت پسند افکار بھرے جا رہے ہیں جن کا اختتام ہتھیاروں کے استعمال پر ہوتا ہے۔

حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء میں مقامی لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سمر کیمپ کے پروگراموں میں جلد از جلد داخلہ دلوائیں۔ ان کورسز کا نصاب حزب اللہ کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔

اسی طرح سمر کیمپ کے پروگرام میں حوثی ملیشیا کے سربراہ کا یومیہ لیکچر سننا لازم قرار دیا گیا ہے۔ لیکچروں کا یہ سلسلہ ان ملازمین کے واسطے ہے جن کو ثقافتی کورسز میں داخلہ دیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں یہ لوگ ہتھیاروں کے استعمال کے لیے تربیتی کیمپوں سے وابستہ ہو جائیں گے۔

اسی طرح تربیتی پروگرام میں لڑائی کے کھیل اور حوثی ملیشیا کے ان کمانڈروں کی شخصیات کو پیش کرنا بھی شامل ہے جو سرکاری فورسز کے ساتھ لڑائی میں مختلف محاذوں پر مارے گئے۔ عربی اخبار کے مطابق کم سن بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ کمانڈر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

سمر پروگرام 3 ماہ جاری رہے گا۔ حوثی ملیشیا نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں تعلیمی نصاب کے اندر بہت سی ترامیم کی تھیں۔ ان کے ذریعے نصاب میں امریکا کو بدی کی عالمی طاقت قرار دیا تھا۔ علاوہ ازیں بچوں کو خمینی کا نعرہ بھی سکھایا گیا۔

واضح رہے کہ یمنی حکومت پہلے ہی یہ باور کرا چکی ہے کہ حوثی ملیشیا سمر کیمپ کے مراکز کو دہشت گردی کے بند کیمپوں میں تبدیل کر رہی ہے۔ اس کا مقصد یمنی بچوں کو ایرانی ماہرین کے ہاتھوں تربیت دلوانا اور انہیں چھوٹے اور درمیانے ہتھیار چلانا سکھا کر لڑائی کے محاذوں میں جھونک دینا ہے۔