.

شعبۂ سیاحت کوبحرانوں سے مقابلے میں زیادہ توانا ہونا چاہیے:سعودی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرسیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ عالمی سیاحت کو اس طرح استوار اور توانا ہوناچاہیے کہ وہ کروناوائرس ایسے بحرانوں کا بوجھ سہار سکے اور ایسے بحرانوں کے مقابلے میں لچک کا مظاہرہ کرسکے۔

وہ سعودی دارالحکومت الریاض میں بدھ کو اقوام متحدہ کے تحت عالمی سیاحتی تنظیم (یو این ڈبلیو ٹی او) کے مشرق اوسط بیورو کے زیراہتمام الریاض میں’’خطے میں سیاحت کی بحالی‘‘ کے موضوع پرکانفرنس کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’گذشتہ 14 ماہ کے دوران میں ہم دنیا بھرشعبہ سیاحت میں 6 کروڑ ملازمتیں کھوچکے ہیں۔ ہزاروں چھوٹے اور بڑے کاروبار بند ہوچکے ہیں یا ان کی کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکررہ گئی ہیں اور ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان تمام کاروباروں کا تعلق نجی شعبے سے ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں سیاحتی صنعت کو ازسرنواستوار کرنے کے لیے سوچ بچارکرنے کی ضرورت ہے۔اس کو توانا اور مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے کہ وہ کرونا وائرس ایسے بحرانوں کا مقابلہ کرسکے۔‘‘

سعودی وزیرسیاحت نے متنوع آمدن اور سرمایہ کاری کے بہتر حاصلات کے ذریعے پائیدارمالیاتی وسائل بنانے کی اہمیت پر زوردیا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم کی چھتری تلے تمام ممالک کے درمیان مربوط اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا:’’میں یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ یورپ اکیلے ہی سفری پروٹوکول کیسے وضع کرسکتا ہے۔یورپ یواین ڈبلیو ٹی او کے تحت پانچ یا چھے براعظموں میں سے ایک ہے۔یورپ کا رُخ کرنے والے مسافروں میں سیاحوں کی تعداد 50 سے 60 فی صد ہوتی ہے۔اس لیے ہمیں یو این ڈبلیو ٹی او،ایاٹا اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ایک مشترکہ سفری پروٹوکول وضع کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

سعودی وزیرسیاحت کا کہنا تھا کہ ’’اگر ہرخطے یا برِّاعظم یا ملک نے اپنے اپنے سفری قواعد وضوابط وضع کرنا شروع کردیے تو بین الاقوامی سفر ایک ’’ڈراؤنا خواب‘‘ بن کر رہ جائے گا۔اس لیے ہمیں ایک مشترکہ ٹریول پروٹوکول تیار کرنا چاہیے جس سے ہماری زندگی آسان ہوسکے۔‘‘

دریں اثناء اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم نے مشرق اوسط کے لیے اپنا پہلا ہیڈکوارٹر سعودی دارالحکومت الریاض میں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ سعودی عرب نے شعبہ سیاحت کی امداد کے لیے عالمی بنک سے تعاون کے ذریعے ایک فنڈ کے قیام کا اعلان کیا اور اس کے لیے 10 کروڑ ڈالر عطیہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس فنڈ کو سیاحتی شعبے کی اعانت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سعودی پریس ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق مملکت کی کابینہ نے منگل کے روز وزیرسیاحت کو اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم سے مذاکرات اورتعاون کے ایک سمجھوتے کا مسودہ تیارکرنے کا اختیاردیا تھا۔اس کے تحت یواین ڈبلیو ٹی او کے ساتھ مل کرای لرننگ کے ذریعے انسانی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔