.

عراقی وزیراعظم نے تحریر اسکوائر میں مظاہرین کے قتل کا نوٹس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل منگل کے روز عراق کے دارالحکومت بغداد میں تحریر اسکوائر میں سماجی کارکنوں کے قتل کی تحقیقات کے مطالبے کے لیے ہونے والے مظاہرے کےدوران پولیس کےساتھ تاصادم مین کم سے کم ایک احتجاجی ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے۔

دوسری طرف وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے تحریر اسکوائر میں ہونےوالے پرتشدد واقعے کانوٹس لیتے ہوئے مظاہرین کے قتل اور انہیں زخمی کرنے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
منگل کے روز پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے ان پر گولیاں چلائیں اور ان پراشک آور گیس کی شیلنگ کی۔

ادھر عراق کے صدر برھم صالح نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں سماجی کارکنوں کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے اور انہیں کٹہرے میں لانے کا مطالبہ حق بہ جانب ہے۔ انہوں نےکہا کہ نہتے مظاہرین پر گولیاں چلانے کا کوئی جواز نہیں۔ مظاہرین ہر فائرنگ کی فوری تحقیقات ہونی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور سول املاک کا تحفظ ضروری ہے اورکسی کو اپنے مقاصد کی آڑ میں املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر صالح کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ عراقی عوام کوملک کی خود مختاری کو یقینی بنانے کےلیے ریاستی اداروں کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارے نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ ملک میں آزاد اور شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کی مرضی کی قیادت کوآگے لایا جائے۔

ادھردوسری جانب وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے کہا ہے کہ ہم عراق میں عوام کے پرامن احتجاج کے حامی ہیں۔ گذشتہ روز تحریر اسکوائر میں پیش آنےوالے واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مظاہرین پر گولی چلانے سے اجتناب کرے۔