.

قاسم سلیمانی نے حماس کی عسکری معاونت کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا تھا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نجی ذرائع نے العربیہ اور الحدث ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں کی ذمہ داری القدس ملیشیا کے سربراہ کمانڈر قاسم سلیمانی نے فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزحمت حماس کی فوجی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا تھا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ایران نے فوجی اور دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے حماس کو خفیہ طور پر رقم بھیجی تھی۔ سلیمانی نے اپنی موت سے قبل راکٹ سازی کے ماہرین کی سات رکنی ایک خصوصی ٹیم بھی قائم کی تھی جس میں ایرانی ، لبنانی اور ایک شامی شامل تھے۔ ان کے ذمہ حماس کے لیے راکٹ تیار کرنے میں حماس کی مدد کرنا تھا۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ ایران نے تہران میں حماس کے 25 فوجی کمانڈروں کو تربیت دی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایران نے حماس کے مواصلاتی یونٹ اور ہتھیاروں کی ترقی سے متعلق لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا ہے۔ 'قدس فورس' کے ایک ایرانی عہدیدار نے حماس کے کارخانوں کا تقریبا پانچ بار دورہ کیا ، جن میں سے آخری جنوری 2021 میں ہوا تھا۔

ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ ایرانی اور فلسطینی انجینیروں نے دھماکہ خیز مواد لے جانے کے لیے ڈرون تیار کرنےپرحالیہ عرصے کے دوران کام کیا ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ میزائل ترقیاتی یونٹ جس میں ایک ایرانی اور فلسطینی انجینیر بھی شامل ہے نے تل ابیب کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے جدید راکٹ تیار کیے تھے۔

ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ راکٹ مکمل طور پر پٹی کے اندر تیار کیے گئے تھے۔ ایران نے اس شعبے میں حماس کو اپنی مہارت فراہم کی تھی۔