.

ایران:انسانی حقوق کی کارکن اورصحافیہ نرجس محمدی کوڈھائی سال قید،80کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ایک عدالت نے انسانی حقوق کی معروف کارکن اور صحافیہ نرجس محمدی کومختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر 30 ماہ قید ، 80 کوڑوں اور دوجرمانوں کی سزا سنائی ہے۔

ان کے وکیل محمود بہزادی راض نے جمعرات کو عدالت کے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ نرجس محمدی موجودہ حالات میں اس سزا کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کرنا چاہتی ہیں۔

ان کے بیرون ملک مقیم خاوند تقی رحمانی نے گذشتہ اتوار کو انسٹاگرام پرسب سے پہلے عدالت کے ابتدائی فیصلے کی اطلاع دی تھی لیکن ان کے بہ قول عدالت نے ان کی اہلیہ کوایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈے ،سزائے موت کے خلاف مہم چلانے اور دسمبر 2019ء میں جیل میں حکومت مخالف مظاہرین کے حق میں دھرنا دینے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزا سنائی تھی۔

ایران کے اصلاح پسند اخبار اعتماد نے منگل کے روز اطلاع دی تھی کہ نرجس محمدی پرایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈے،ہتک عزت اور جیل اتھارٹی کے خلاف بغاوت کے الزامات میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ’’ان کے خلاف سزائے موت کی مخالفت میں بیان جاری کرنے،جیل حکام پر تشدد اور ہراسیت کا الزام عاید کرنے اور جیل میں احتجاجی طور پر دھرنا دینے کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔‘‘ اخبار کے مطابق انھیں 80 کوڑوں ،ڈھائی سال قید اور دو جرمانوں کی سزا سنائی گئی ہے۔

پیرس میں قائم صحافیوں کی عالمی تنظیم ’صحافیان ماورائے سرحد‘(آر ایس ایف) کے مطابق نرجس محمدی کو دوران حراست تہران کی ایوین جیل سے ملک کے شمال مغرب میں واقع شہر زنجان کی جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔انھوں نے ایک جیل سے دوسری جیل میں غیرقانونی منتقلی کے خلاف درخواست بھی دائر کی تھی۔

روزنامہ اعتماد کے مطابق نرجس محمدی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ایوین جیل میں ماراپیٹا اور ہراساں کیا گیا تھا۔وکیل بہزاد راض کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف کے حکام نے میری مؤکلہ کی درخواست کاجائزہ لینے کے بجائے الٹا ان کے خلاف ایک اورکیس کھول دیا تھا۔

یورپی یونین نے نرجس محمدی کے خلاف ایرانی عدالت کے فیصلہ کوایک افسوس ناک پیش رفت قراردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے تو اپنی زندگی انسانی حقوق کے لیے وقف کررکھی ہے۔

یورپی یونین نے ایران سے نرجس محمدی کے کیس کا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے اورکہا ہے کہ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔

49 سالہ نرجس محمدی دفاع انسانی حقوق مرکز کی خاتون ترجمان ہیں۔انسانی حقوق کی اس تنظیم پرایران میں پابندی عاید ہے اور اس کے کارکنان بیرون ملک سرگرم ہیں۔اسی تنظیم کی شریک بانی ڈاکٹر شیریں عبادی کو 2003ء میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نرجس محمدی کو قبل ازیں ایران کی ایک عدالت نے مختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔البتہ انھیں پانچ سال قید بھگتنے کے بعد اکتوبر 2020ء میں جیل سے رہا کردیا گیا تھا اور ان کی سزائے قید کم کردی گئی تھی۔

مگر جیل سے رہائی کے باوجود ایرانی حکام نے نرجس محمدی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔وہ 2015ء سے ایران میں تنہا رہ رہی ہیں اور ان کے دونوں بچّے اورخاوند تقی رحمانی فرانس میں مقیم ہیں۔