.

مسلح گروپوں کے محاسبے کے لیے عراقی حکومت کی کوششیں خوش آئند ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ امریکا کو پُر امن عراقی مظاہرین کے ساتھ پر تشدد اور وحشیانہ طریقے سے نمٹے جانے پر تشویش لاحق ہے۔

جمعرات کی شام جاری ایک بیان میں انہوں نے عراقی حکومت کی جانب سے اُن مسلح اور بدمعاش گروپوں کے محاسبے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا جو عراقی شہریوں کے آزادی اظہار اور پر امن اجتماع کا حق استعمال کرنے پر انہیں حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

عراقی میں سیکورٹی اور طبی ذرائع نے بتایا کہ بغداد کے وسط میں عوامی احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز نے ہوائی فائرنگ کی جس کے دوران میں 2 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہو گئے۔

عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی بارہا یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ پر امن مظاہرے کی آزادی دینے کے حامی ہیں۔ انہوں نے مظاہروں کے لیے سخت سیکورٹی کے انتظامات، جذبات کو قابو رکھنے اور کسی بھی سبب براہ راست فائرنگ نہ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

دو روز قبل اپنی ایک ٹویٹ میں الکاظمی نے کہا تھا کہ "التحریر اسکوائر کے مظاہرے میں آخری لمحات میں جو کچھ ہوا اس کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔ امن کا برقرار رکھنا ہم سب کی ذمے داری ہے اور ہمیں مل کر اس کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے"۔

منگل کے روز بغداد کے وسطی علاقے میں ہزاروں عراقیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اکتوبر 2019ء میں ملک میں شروع ہونے والی عوام تحریک کے بعد سے سیکڑوں مظاہرین اور سماجی کارکنان کی ہلاکت میں ملوث عناصر کے تعاقب کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ ان مظاہروں میں جنوبی شہروں مثلا ناصریہ اور کربلاء سے بھی لوگ شامل ہو گئے۔