.

الحشد ملیشیا کے کمانڈر کی گرفتاری 'غلطی' تھی: عراقی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر دفاع جمعہ عناد نے خبردار کیا ہے کہ الانبارمیں الحشد ملیشیا کے کمانڈر قاسم مصلح کی گرفتاری کے بعد الحشد کی طرف سے بغداد میں عسکری پریڈ کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الحشد ملیشیا کے کمانڈر کی سماجی کارکنوں کے قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتاری غلطی تھی تاہم نہوں نے اس کی رہائی کی تردید کی ہے۔

عراقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ الحشد ملیشیا کا کوئی عہدیدار تنازع کے حل کے لیے مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف سے ملاقات کرے۔ملک کا دفاع صرف مسلح افواج کرے گی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کوئی مسلح گروپ کسیے 40 گاڑیوں پر اپنے مسلح جنگجوؤں اور اسلحہ کی پریڈ سکتا ہے؟

قاسم مصلح
قاسم مصلح

جمعہ عناد کا کہنا تھا کہ بعض اوقات حکومت کی کسی معاملے پر خاموشی اس کی کمزوری نہیں بلکہ مفاد عامہ کی خاطر حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے۔ عراق کی مسلح افواج اور کمانڈر ان چیف ہمیشہ ملک میں امن وامان کے قیام اور خون خرابے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بعض لوگ حکومت کی خاموشی کو اس کی کمزوری یا خوف کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

جمعہ عناد نے انسداد دہشت گردی اور 'داعش' کوشکست دینے سے متعلق بیان میں کہا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ عراق کو 'داعش' سے نجات دلانے میں الحشد ملیشیا کا کلیدی کردار ہے اور اس کے بغیر ملک داعش سے آزاد نہیں ہوسکتا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ عراق کو 'داعش' سے آزاد کرانے میں عراقی فوج کا کلیدی کردار ہے۔