.

ایران اور6عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری سمجھوتے کی بحالی پرمذاکرات میں پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے ویانا میں بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ان کے درمیان اہم اختلافی امور ابھی تک لاینحل ہیں۔

یہ بات ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے سوموار کو معمول کی نیوزبریفنگ میں کہی ہے۔ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے نمایندے اپریل سے ویانا میں جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق امور پر بات چیت کررہے ہیں۔تاہم ابھی تک ان کے درمیان امریکا کی جوہری سمجھوتے میں واپسی کے لیے مجوزہ اقدامات اور ایران کی جانب سے سمجھوتے کی مکمل پاسداری سے متعلق امورپراختلافات پائے جاتے ہیں۔

سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ’’ویانا میں مذاکرات کا ہر دور حتمی ہوسکتا ہے لیکن ہمیں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ہم نے نمایاں پیش رفت کی ہے لیکن اہم امور ابھی تک حل طلب ہیں۔‘‘

انھوں نے واضح کیا کہ ’’ویانا میں مذاکرات میں کوئی تعطل نہیں ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پرعلاحدگی کااعلان کردیا تھا اور اس کے خلاف اسی سال نومبر میں سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان سے ایرانی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

امریکا کی موجودہ بائیڈن انتظامیہ ایران کے ساتھ اب ایک نظرثاتی شدہ جامع سمجھوتے پر زوردے رہی ہے جس کے تحت اس کے جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائل کے پروگرام کی سرگرمیوں پر بھی قدغنیں عاید کی جائیں گی۔تاہم وہ اس کی خطے کے ممالک میں گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت کو روک لگانے پر زیادہ زور نہیں دے رہی ہے۔

صدر جوبائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ اگر ایران جوہری سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے اور یورینیم افزودہ کرنے کی سرگرمیوں کو مطابق محدود کردے تو امریکا دوبارہ اس سمجھوتے میں شامل ہوجائے گا۔

لیکن ایران مسلسل یہ مطالبہ کرتا چلاآرہا ہے کہ اس پرعاید کردہ تمام امریکی پابندیاں ختم ہونی چاہییں۔سعید خطیب زادہ نے بھی اس مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’تمام پابندیاں ختم ہونی چاہییں اور پھرایران کو ان کی تصدیق کرنی چاہیے۔اس کے بعد ہی ہم اپنے اقدامات کو واپس کریں گے۔‘‘

تاہم ایک علاقائی سفارت کار نے مذاکرات میں شریک مغربی عہدے داروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’اسی ہفتے طرفین کے درمیان ایک سمجھوتا متوقع ہے۔اس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ایران کو کون سے تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور امریکا کوکیا اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘