.

ایران کے موجودہ نظام کا دھڑن تختہ اب ’وقت کی بات‘ ہے:جلاوطن رضاپہلوی

سعودی ولی عہد کے مخاطب ایرانی عوام تھے،وہ مملکت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے فرزندِاوّل جلاوطن رضاپہلوی نے کہا ہے کہ دنیا بہت جلد اسلامی جمہوریہ کے موجودہ نظام کا خاتمہ ملاحظہ کرے گی۔

وہ واشنگٹن سے عرب نیوز کے فرینک کین کی میزبانی میں شو فرینکلی اسپینگ میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا:’’تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی مطلق العنان نظام تادیر برقرارنہیں رہتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ایران کی نوجوان نسل ایک مختلف زندگی چاہتی ہے مگر موجودہ نظام اس کو ایسی زندگی مہیّا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یادرہے کہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے زیرقیادت انقلابیوں نے 1979ء میں ایران میں سابق شاہ ایران محمد رضاپہلوی کا تختہ الٹ دیا تھا اور ان کی جگہ ایک مذہبی نظام برسراقتدارآگیا تھا۔

ایران کے سابق ولی عہد نے کہا کہ ’’آج ہم ملک کے ہرکونے میں آزادی کے زیادہ سے زیادہ مواقع دیکھ رہے ہیں۔یہ اس حقیقت کا اشارہ ہے کہ نظام نہ صرف اپنا قانونی جواز کھوچکا ہے بلکہ اس کی گرفت بھی ڈھیلی پڑنا شروع ہوگئی ہے۔‘‘

رضاپہلوی نے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ’’موجودہ نظام کی خاتمے کی صورت میں وہ ایران کے شاہ نہیں بنناچاہتے بلکہ ان کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ ایران کو آزاد کرایا جائے،اس نظام کو نکال باہرکیا جائے اور ملک میں ایک سیکولر جمہوری نظام قائم کیا جائے۔اگر ایسا ہوجاتا ہے توزندگی میں یہ ان کے سیاسی مشن کا حاصل ہوگا۔‘‘

جوہری سمجھوتا

جب فرینک کین نے ان سے جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق ویانا میں مذاکرات کے بارے میں سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ایرانی نظام اپنے کردار کو تبدیل نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا تمام وجود اس کی بقا پر منحصر ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی نظام اپنے نظریے کو برآمد کرنا چاہتا ہے اور خطے میں براہِ راست یا اپنے گماشتہ گروپوں کے ذریعے بالادستی چاہتا ہے۔اس لیے جس معاملے پر بھی مذاکرات ہورہے ہیں،اس سے قطع نظران کا نقدحاصل یہ ہے کہ یہ ایک بے فائدہ مشق ہیں اورایرانی نظام ان مذاکرات کو بلیک میلنگ کے ایک حربے کے طورپر استعمال کررہا ہے۔وہ دنیا کو خود سے ایک ڈیل کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ ہمارے خطے کی جغرافیائی سیاست پر اپنی گرفت کو برقراررکھ سکے۔‘‘

رضا پہلوی کاکہنا تھا کہ’’اگر ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو ختم کردیا جاتا ہے تو اس سے اس نظام کو تقویت ملے گی اور وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے گا۔‘‘

انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ ’’ایران پردباؤ میں کمی سے مزید نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے بلکہ مزید دباؤ ڈال کر ہی نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔‘‘ان کے بہ قول ایرانی نظام پر مزید دباؤ ایرانی عوام ہی کے مفاد میں ہوگا کیونکہ اس نظام کو جب کبھی سانس لینے کا موقع ملتا ہے تو اس کا خمیازہ عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ویانامذاکرات کے نتیجے میں ایران کو اگر ریلیف ملتا ہے تواس سے ایرانی عوام کو کچھ ملنے کا نہیں کیونکہ ہم اوباما انتظامیہ کے دور میں بھی یہ دیکھ چکے ہیں۔تب ایرانی نظام کو کثیررقوم جاری کی گئی تھی لیکن ان میں سےایک پائی بھی ایران میں عوام پر خرچ نہیں کی گئی تھی۔‘‘

سعودی، ایران تعلقات

ان سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ایک حالیہ انٹرویو سے متعلق بھی سوال پوچھا۔اس انٹرویو میں شہزادہ محمد نے کہا تھا کہ ’’سعودی عرب زیادہ خوش حال ایران چاہتا ہے اور اس کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے‘‘

رضاپہلوی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’’میرے خیال میں یہ ایران کے نظام سے زیادہ ایرانی عوام کے لیے ایک پیغام ہے۔اس لیے میرے خیال میں ایرانی عوام اس پر بہترردعمل کا اظہار کریں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ن’’ظام کا جلد یا بدیردھڑن تختہ ہوجائے گا اور ایران میں عوام آزاد ہوں گے۔اس لیے اب انھیں سعودی ولی عہد کے مثبت اظہاریے کا جواب دینا ہوگا۔‘‘

رضا پہلوی نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ موجودہ نظام کے جانے کے بعد ایران کے سعودی عرب سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہوں گے۔

انھوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’1979ء کے انقلاب سے قبل ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی نوعیت کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے کہ جب سعودی عرب میں شاہ فیصل بن عبدالعزیز شہید ہوئے تھے تو ایران میں سات دن تک سوگ منایا گیا تھا۔‘‘