.

غزہ میں طویل جنگ بندی اور اسرائیل اور حماس کے بیچ قیدیوں کے تبادلے کی مصری تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کانفرنس کے انعقاد کی دعوت دی ہے ،،، اور قاہرہ نے فلسطینی گروپوں سے یہ عہد کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر راکٹ نہیں داغیں گے۔ یہ بات العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتائی۔ ذرائع کے مطابق مصر نے اسرائیل سے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس تنظیم کے کسی رہ نما کو ہلاک کرنے کی کارروائی پر عمل نہ کرے۔

دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے تنازع میں ایران کی براہ راست مداخلت کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل نے مصر کو آگاہ کیا ہے کہ وہ حماس اور حزب اللہ کے تعاون پر سخت برہم ہے۔

مصری انٹیلی جنس کے سربراہ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی کے محاصرے میں نرمی کو قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے ساتھ مربوط کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ "میں نے مصر کی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر سے ملاقات میں یہ مطالبہ پیش کیا کہ غزہ میں زیر حراست اسرائیلی فوجیوں کو واپس کیا جائے"۔

فلسطینی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ "مصری انٹیلی جنس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کے دورے کے دوران میں فلسطینی اتھارٹی کا نمائندہ بھی موجود ہونا چاہیے"۔ ذرائع کے مطابق مصر نے فلسطینی گروپوں کو باور کرایا ہے کہ وہ جارحیت میں ایران کے کسی کردار کی اجازت نہیں دے گا۔

مصری ٹیلی وژن کے مطابق مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے فائر بندی کو مستقل بنانے اور تعمیر نو سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے اعلی سطح کا ایک سیکورٹی وفد اسرائیل اور فلسیطنی اراضی بھیجا ہے۔

ادھر اتوار کے روز فلسطینی صدر محمود عباس نے مصر کی جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کا استقبال کیا۔ ملاقات میں بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں جامع اور مستقل امن سے متعلق تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں غزہ کی پٹی میں تعمیر نو، فلسطینی قومی مکالمے اور سیاسی منظرنامے جیسے امور زیر بحث آئے۔

اس موقع پر صدر محمود عباس نے فلسطینی عوام اور اس کے قضیے کی منصفانہ نصرت کے لیے مصری صدر السیسی کے زیر قیادت قاہرہ کے ابتدائی منصوبے کو گراں قدر قرار دیا۔

فلسطینی صدر نے مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور اسرائیل کی جانب سے دیگر خلاف ورزیاں روکنے کے لیے مداخلت کرے۔