.

حماس کا قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل میں البرغوثی کو شامل کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر اس وقت فلسطینی اور اسرائیلی جانب کے بیچ جنگ بندی پر کام کر رہا ہے جس میں قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتا اور اقتصادی وار سیاسی شقیں شامل ہیں۔ اس بات کا انکشاف ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے سلسلے میں مروان البرغوثی کو ابتدائی فہرست میں شامل کیا جائے جب کہ اسرائیل کو اس پر تحفظات ہیں۔

علاوہ ازیں حماس نے قاہرہ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ڈیل ہو جانے کی صورت میں رہائی پانے والے قیدیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔

اس سمجھوتے میں یہ مذاکرات بھی شامل ہیں کہ غزہ کی پٹی کے لیے ایک سمندری گزر گاہ ہو تاہم اسرائیل اس کو مسترد کر رہا ہے۔

مصر نے آئندہ ہفتے قاہرہ میں ایک ہنگامی اجلاس کے لیے فلسطینی گروپوں کو دعوت دینے کی تصدیق کی ہے۔ یہ بات مصر کے سرکاری ٹیلی وژن نے منگل کے روز بتائی۔

سمجھوتے کے ضمن میں یہودی بستیوں کی آباد کاری اور فلسطینیوں کی جبری ہجرت کو روکے جانے کے حوالے سے مذاکرات بھی ہیں۔ قاہرہ سمجھوتے کے مرکزی وساطت کار کی حیثیت سے اس پر دستخط کرے گا۔

اس سے قبل مصری جنرل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر میجر جنرل عباس کامل نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تھا۔ ان کی آمد کا مقصد فلسطینی گروپوں کی قیادت سے ملاقات کرنا اور جنگ بندی اور تعمیر نو کے معاملات زیر بحث لانا تھا۔ وہ گذشتہ روز سہ پہر کے بعد واپس مصر روانہ ہو گئے۔