یواے ای:15جون سے دوپہرکے وقت ڈھائی گھنٹے کام کرنے پرپابندی کااعلان

پابندی کے اوقات میں ورکروں سے کام لینے والے ادارے پر50 ہزاردرہم تک جرمانہ عاید کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے انسانی وسائل اور امارتیانے نے دوپہر کے وقت سورج کی تپش میں ڈھائی گھنٹے تک کام کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔گھروں یا دفاتر سے باہریہ پابندی 15جون سے نافذالعمل ہوگی اور اس کا دورانیہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے تین بجے تک ہوگا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ دوپہرکے وقت کام پر پابندی کا یہ فیصلہ کارکنوں کی صحت اور پیشہ ورانہ تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔اس دوران میں کووِڈ-19 سے بچاؤ کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی جانی چاہیے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکاجاسکے۔

وزارت کے اس نئے فیصلہ کے تحت صبح یا شام میں اوقات کار آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونے چاہییں۔نیز سورج کی روشنی میں کام کے دوران میں کارکنوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانا چاہیے۔

وزارت نے اس فیصلہ کے نفاذ کے ضمن میں نجی شعبے کے کردار کو سراہا ہے۔اس کے علاوہ شہریوں کے اس پابندی کی نگرانی کے عمل میں کردارکی تعریف کی ہے اور آجروں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ ورکروں کو مشینوں یاآلات کے ساتھ کام کے دوران میں جسمانی تحفظ مہیا کرنے کے لیے یواے ای کے لیبرقانون میں بیان کردہ تصریحات پرعمل درآمد کریں۔

وام کےمطابق جوکوئی ادارہ اس فیصلے کے شرائط وضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا،اس پر فی کارکن پانچ ہزار درہم اور زیادہ کارکنوں کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 50 ہزار درہم جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں