.

امریکا نے ایران سےخام تیل درآمد کیایا اس کے ضبط شدہ ٹینکروں سے نکالا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے مارچ میں ایران سے خام تیل درآمد نہیں کیا تھا بلکہ اس نے ضبط شدہ ٹینکروں سے یہ لیا تھا۔ذرائع کے مطابق امریکی بحریہ نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں بین الاقوامی پانیوں میں ان ایرانی جہازوں کوضبط کیا تھا۔

اس تمام معاملے میں الجھاؤامریکا کی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ کی ایک حالیہ رپورٹ سے پیدا ہوا ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ امریکا نے 10 لاکھ 33 ہزار بیرل خام ایرانی تیل درآمد کیا ہے۔

لیکن ایک ذریعے نے العربیہ کو بتایا ہے کہ یہ خام تیل ایران سے براہ نہیں منگوایا گیا بلکہ یہ غیرقانونی ٹینکروں سے حاصل کیا گیا تھا اورامریکا نے اس کی ایران کو کوئی قیمت بھی ادا نہیں کی ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فورسز نے فروری میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے نزدیک ایک تیل بردار جہاز پرقبضہ کیا تھا اور پھر اس کو امریکا منتقل کردیا تھا۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے قبل ازیں یہ رپورٹ دی تھی کہ امریکا نے 1991ء کے بعد پہلی مرتبہ ایران سے خام تیل درآمد کیا تھا اور یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا بائیڈن انتظامیہ نے ایسا کرکے ایران کے شعبہ توانائی پر امریکا کی عاید کردہ پابندیوں سے سرموانحراف کیا ہے۔

تاہم امریکا کے ایک ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل بردارجہازوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا لیکن ایران کو ان کی کوئی قیمت منتقل نہیں کی ہے۔

امریکا نے خود اس سے پہلے یہ کہا تھا کہ اس نے گذشتہ سال ایران کے ضبط کردہ 10 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل کو فروخت کردیا تھا۔

دریں اثناء یہ میڈیا رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران وینزویلا کی جانب دو بحری جہاز بھیج رہا ہے۔ان میں سے ایک تیل سے لدا ہوا ہے۔

امریکی حکام ان دونوں جہازوں کی قریب نظری سے نگرانی کررہے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ بحراوقیانوس (اطلانتک) میں ان دونوں ایرانی جہازوں کو روکنے کے لیے امریکی بحریہ کے جہازوں کو بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔