.

ایرانی حمایت یافتہ حوثی یمن میں جنگ بندی کے لیے’بامقصد‘بات چیت سےگریزپاہیں:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا یمن میں جنگ بندی کے لیے بامقصد بات چیت سے انکاری ہے اوروہ اس ضمن میں اب تک ہونے والی پیش رفت میں بھی حائل ہورہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے صدرجوبائیڈن کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ٹِم لنڈرکنگ کے خطے کے حالیہ دورے کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے۔اس نے کہا کہ ’’حوثیوں نے مآرب میں تباہ کن جارحانہ کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔اس کی عالمی برادری نے مذمت کی ہے۔اس کے بعد تو حوثی دنیا میں تنہا ہورہے ہیں۔‘‘

محکمہ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ’’یمن میں مسائل پیدا کرنے والے بہت سے کردارہیں،مگرجنگ بندی کے لیے بامقصد بات چیت سے انکار کی سب سے زیادہ ذمہ داری حوثیوں ہی پر عاید ہوتی ہے۔انھیں گذشتہ سات سال سے جاری تنازع کے حل اور یمنی عوام کو ناقابل تصور مصائب ومشکلات سے نجات دلانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘

واضح رہے کہ صدرجوبائیڈن کی انتظامیہ نے گذشتہ ماہ حوثی ملیشیا کے دولیڈروں پر مآرب میں فوجی کارروائی میں کردارپر پابندیاں عاید کردی تھیں۔مآرب پر یمنی حکومت کا کنٹرول ہے لیکن حوثیوں نے اس پر قبضے کے لیے گذشتہ مہینوں سے کارروائی شروع کررکھی ہے جس سے لاکھوں یمنی مزید مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔

ٹِم لنڈرکنگ نے حوثیوں پر گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفیتھس سے ملاقات سے انکار پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔تاہم انھوں نے امریکا کی پابندیوں کے بعد مارٹن گریفیتھس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات چیت کی تھی۔

دریں اثناء امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے عُمانی ہم منصب سے یمن جنگ سمیت علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے یمن میں فوری اور جامع جنگ بندی اور یمنی عوام کو درپیش انسانی مصائب سے نجات دلانے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔

عُمان دوسرے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے اور فریقین کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کار اور ثالث کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔عُمانی دارالحکومت مسقط ہی میں امریکی ایلچی اور حوثیوں کے درمیان گذشتہ مہینوں میں براہ راست ملاقاتیں ہوئی ہیں۔