.

اسرائیل کے مخلوط حکومتی اتحاد کے لیے رکن کنیسٹ نیرو اوروباخ کیوں اہم ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھوکے حامیوں نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رکن کنیسٹ یر اروباخ کے گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نفتالی بینیٹ کی قیادت میں قومی کو خبردار کیا تھا کہ وہ شاید وہ اعتماد کے ووٹ میں ان کی حمایت نہیں کریں گے۔

اور اگر اوروباخ بائیں بازو کی جماعت کے رہنما یائیر لبید کے ساتھ اتحاد بنانے کے خلاف ووٹ دیتے ہیں تو فیوچر پارٹی کے رہ نما اور عرب اتحاد کے لیڈر منصور عباس پر مشتمل قومی حکومت کا قیام کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔

اسرائیلی پریس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دائیں بازو والے نے پارٹی سے استعفیٰ دیئے بغیر نئی حکومت پر اعتماد کے ووٹ سے دستبردار ہونے کے لیے اوروباخ پر شدید دباؤ ڈالا تاکہ نئے اتحاد کو مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے سے روکا جاسکے۔ اتحاد کو حکومت کی تشکیل کے لیے کم از کم ایک ووٹ کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ کنیسٹ میں اعتماد حاصل کرنے کے لیے سادہ اکثریت حاصل کرلیں گے۔

جمعہ کو نیتن یاہو کے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ جو لوگ دائیں بازو کے ووٹوں کی بنیاد پر منتخب ہوئے تھے انہیں مضبوط اور اچھی دائیں بازو کی حکومت تشکیل دے کر صحیح کام کرنا چاہیئے۔

اگر آخری لمحے کی غلطی سے اتحاد کو پٹخ کردیا گیا تو ممکن ہے کہ اسرائیل محض دو سالوں میں اپنے پانچویں انتخابات کی طرف جانے پر مجبور ہوگا۔