.

فرانس میں لبنان کے مرکزی بنک کے سربراہ ریاض سلامہ کی کثیر ذاتی دولت کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں حکام نے لبنان کے مرکزی بنک کے گورنر ریاض سلامہ کی کثیر ذاتی دولت کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

فرانسیسی ذرائع کے مطابق پیرس کے مالیاتی پراسیکیوٹرز نے ریاض سلامہ کی منی لانڈرنگ اور مجرمانہ سرگرمی کی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ان کے خلاف ان ہی الزامات کے تحت سوئٹزرلینڈ میں بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔

70 سالہ ریاض سلامہ 1993ء سے لبنان کے مرکزی بنک کے سربراہ چلے آرہے ہیں۔لبنان کے نگران وزیراعظم حسان دیاب کی حکومت انھیں متعدد مرتبہ لبنانی پاؤنڈکی قدر میں مسلسل کمی اور ملکی کرنسی کی زبوں حالی کا ذمے دارقرار دے چکی ہے۔

لبنانی عوام کو شُبہ ہے کہ ریاض سلامہ اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں نے 2019ء میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران میں مرکزی بنک سے بھاری رقوم کو بیرون ملک منتقل کردیا تھا جبکہ عام لوگوں کو بنکوں سے رقوم نکلوانے یا بیرون ملک منتقل کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

لبنان اکتوبر2019ء میں ملک گیر عوامی احتجاجی تحریک کے بعد سے بدترین اقتصادی بحران سے دوچارہے اور اس کا بہ طور ریاست دیوالہ نکلنے کو ہے۔عالمی بنک کا کہنا ہے کہ لبنان کو اس وقت انیسویں صدی کے بعد بدترین بحران کا سامنا ہے۔

ریاض سلامہ حریری خاندان کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں۔ان کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں گذشتہ کئی مہینوں سے منی لانڈرنگ اور لبنان بنک میں خردبرد کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہے۔وہ فرانس میں مختلف جائیدادوں کے مالک ہیں اور یہ شُبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انھوں نے اس ملک ہی میں رقوم منتقل کی ہیں۔

ان کے خلاف فرانس میں دائرکردہ ایک فوجداری درخواست میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اور ان کے مقرب لوگوں نے یورپ میں فراڈ کے ذریعے ایک بڑی کاروباری سلطنت کھڑی کرلی ہے۔ان کے کاروباری شراکت داروں میں ان کا بھائی راجا ، بیٹا نادی ، ایک بھتیجا اور مرکزی بنک سے تعلق رکھنے والا ایک معاون شامل ہے۔ان پر بیرون ملک آمدن سے زاید اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

ایک لبنانی ویب گاہ دراج ڈاٹ کام اور منظم جرائم اور کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ کی رپورٹس کے مطابق درخواست گزاروں کو یقین ہے کہ ریاض سلامہ کے دنیا بھرمیں اثاثوں کی مالیت دو ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔

تاہم وہ ان اعدادوشمارکی صحت سے انکاری ہیں اور اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں وراثتی جائیداد ملی تھی،بنک کیرئیر کے دوران میں انھوں نے قانونی طریقے سے جائز سرمایہ کاری کی ہے۔

بیروت میں لبنان کے مرکزی بنک کی عمارت ۔
بیروت میں لبنان کے مرکزی بنک کی عمارت ۔