.

یمن: پبلک پراسیکیوشن کے دفتر سے 5 ٹن چرس کی اسمگلنگ، حوثی ذمہ دار قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے زیرانتظام یمن دارالحکومت صنعا میں ارکان پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ صنعا میں سرکاری استغاثہ کے دفتر کے صحن سے گذشتہ چند روز کے دوران ٹن منشیات اسمگل کی گئی تھی۔

یمن کے پارلیمںٹ کے ایک رکن احمد سیف حاشد نے بتایا کہ صنعاء میں پبلک پراسیکیوشن آفس نے اپنی عمارت کے صحن میں پانچ ٹن منشیات رکھی تھیں۔ چرس پر مشتمل یہ منشیات وہاں سے غائب ہوگئیں اور اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ واقعے میں حوثی رہ نماؤں کے ملوث ہونے کا الزام عایدکیا جا رہا ہے۔

حاشد جو اس سے قبل خود بھی حوثیوں کا وفادار تھا نے نشاندہی کی کہ یہاں اسمگل شدہ منشیات اور خطرناک کیڑے مار دوا کے 6 ٹرک بھی موجود تھے جو صنعاء میں داخل ہوئے تھے اور ان کو کیڑے مار دوا کے جنرل انتظامیہ کے گوداموں میں رکھا گیا تھا ، لیکن یہ کھیپ اسمگلنگ کے ذریعے کہیں اور منتقل کی گئی ہے۔

انہوں نے ٹویٹر پر ٹویٹس پر اس بات کی نشاندہی کی کہ موت کےتمام حربے ہمارے اوپر آزمائے جا رہے ہیں۔ ۔ہزار بار جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے محافظ چور ہیں۔

یمنی پارلیمنٹ کے ممبر نے مزید کہا کہ صنعا میں خصوصی فوجداری استغاثہ کے صحن سے 5 ٹن چرس غائب ہوگئی ہے۔آج کیڑے مار دواؤں کی جنرل انتظامیہ کے گوداموں سے اسمگلنگ اور خطرناک کیڑے مار ادویات کے 6 ٹرک غائب ہوگئے ہیں۔

منشیات کا کاروبار اور اسمگلنگ حوثی ملیشیا کا آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ یمن کی آئینی حکومت نے گذشتہ سال کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ اس کی کوسٹ گارڈ فورسز نے المہرہ گورنری میں ایک اسمگلنگ جہاز پکڑا ہے جس میں 6 ایرانی اور پاکستانی ملاح سوار تھے اور ان کے پاس منشیات کی بھاری مقدار قبضے میں لی گئی تھی۔