.

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب کی مدد ، تاریخی حقائق پر مبنی دستاویزی فلم جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کنگ عبدالعزیز پبلشنگ ہاؤس (دارۃ الملك عبدالعزيز) نے ایک نئی دستاویزی فلم جاری کی ہے۔ اس میں مملکت کے بانی فرماں روا کے دور سے مسئلہ فلسطین کی معاونت میں سعودی عرب کی مدد اور فلسطینی قوم کے لیے سپورٹ کے حوالے سے تاریخی ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔

دستاویزی فلم میں سعودی عرب کی جانب سے مسئلہ فلسطین کی مختلف سطحوں (سفارتی، اقتصادی اور حربی) پر معاونت اور سپورٹ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کا آغاز 1936ء کی ہڑتال کے بعد بیت المقدس کے مفتی امین الحسینی کی جانب سے شاہ عبدالعزیز کو بھیجے گئے مراسلوں کے بعد ہوا۔

مفتی امین الحسینی کی جانب سے خطوط میں مدد کے مطالبے پر شاہ عبدالعزیز نے جواب میں لکھا کہ "فلسطین میری آنکھ کی پتلی ہے ، اس سے دست بردار ہونا ممکن نہیں ، یہودی فلسطین میں جو بھی کچھ کریں گے اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا"۔

سال 1945ء میں بحری جہاز پر امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات میں مسئلہ فلسطین شاہ عبدالعزیز کی اولین ترجیحات میں سرفہرست تھا۔ ملاقات میں انہوں نے صہیونیوں کی تمام کارستانیوں اور وعدوں کو مسترد کر دیا۔

اسی طرح 1947ء میں فلسطین کے تقسیم کے فیصلے پر سعودی عرب کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس کی عکاسی مملکت کے خطیبوں اور عوام کی جانب سے صہیونیوں کی کارروائیوں کی بھرپور مذمتی مواقف کی صورت میں ہوئی۔عوام نے مسجد اقصیٰ اور اپنے عرب بھائیوں کی نصرت کے واسطے دل کھول کر عطیات پیش کیے۔

اسی طرح شاہ عبدالعزیز نے رضاکاروں اور جنگجوؤں کی تیاری اور ان کو ہتھیاروں سے لیس کرنے کا حکم جاری کیا۔ مملکت میں عدلیہ کے سربراہ شیخ عبداللہ بن حسین آل الشیخ نے فلسطین کی نصرت کے لیے ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں انہوں نے باور کرایا کہ اس مسئلے کی نصرت کے لیے کام کرنا اور اسلامی مقامات مقدسہ کی حفاظت کرنا شرعی فریضہ ہے۔