.

’صدارتی انتخابات کے بعد بھی ایران کاجوہری مذاکرات میں مؤقف تبدیل نہیں ہوگا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 18 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد بھی عالمی طاقتوں سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق مذاکرات میں مؤقف میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی کیونکہ اس معاملے سے متعلق ایران کی اعلیٰ قیادت فیصلہ کرتی ہے۔

ایرانی کابینہ کے ترجمان علی ربیع نے منگل کے روز ہفتہ وارنیوزکانفرنس میں کہا ہے:’’ہم یہ ظاہر کرچکے ہیں کہ ہم ہر طرح کے حالات میں اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کی پاسداری کے پابندہیں اور یہ ایک قومی فیصلہ تھا۔‘‘

ترجمان نے واضح کیا کہ ’’ایران کی جوہری پالیسی کا تعیّن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کرتے ہیں،اس کا ملکی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے کوئی تعلق نہیں۔نئی حکومت ان ہی پالیسیوں کوبرقرار رکھے گی ، جنھیں ویانا مذاکرات میں اختیار کیا گیا ہے۔‘‘

علی ربیع نے کہا کہ’’جب تک تمام فریق جوہری سمجھوتے سے متعلق اپنے تقاضوں کی پاسداری کرتے ہیں،تو وہ یہ یقین کرسکتے ہیں کہ ایران بھی اپنی ذمے داریوں سے انحراف نہیں کرے گا۔‘‘

ویانا میں امریکا اورایران کے سفارت کاروں کے درمیان اپریل سے جوہری سمجھوتے کی بحالی اور اس کی تمام شرائط کی پاسداری سے متعلق مذاکرات کے چھے بالواسطہ ادوار ہوچکے ہیں۔اس ہفتے ان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا۔یورپی یونین ، چین اور روس ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں۔

لیکن ابھی تک امریکا اور ایران کے درمیان بہت سے متنازع امور پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ویانامذاکرات میں امریکا کی جوہری سمجھوتے میں دوبارہ واپسی اور ایران کے لیے مجوزہ اقدامات پر غورکیا جارہا ہے۔امریکا اور عالمی طاقتیں ایران سے پابندیوں کے خاتمے کے لیے جوہری سمجھوتے کی مکمل پاسداری کا تقاضا کررہی ہیں۔

ایران 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی اور اس کی شرائط کی پاسداری سے قبل امریکا سے تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے۔ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے اگلے روز کہا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف عاید کردہ بہت سی پابندیوں کو ختم کرنے پرآمادگی ظاہر کی ہے لیکن تہران مزید اقدامات کا مطالبہ کررہا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے ایک روزقبل ہی کہا کہ ایران فی الواقع 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تمام تقاضوں کی پاسداری کرےگا،یہ ابھی واضح نہیں ہے کیونکہ فی الوقت ہم جوہری سمجھوتے کی پاسداری کے مرحلے میں بھی نہیں۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ کیا ہونے جارہا ہے۔‘‘

انھوں نے کانگریس کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا:’’فی الوقت یہ معاملہ ابھی تک غیرواضح ہے کہ ایران جوہری سمجھوتے کی پاسداری کے لیے درکاراقدامات پر آمادہ ہے یا بھی نہیں۔ٹونی بلینکن نے دعویٰ کیا کہ ’’اگر ایران نے جوہری ڈیل کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا تواس سمجھوتے کے خاتمے کا وقت چند ماہ تک محدود ہوکررہ جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پردستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کے ردعمل میں ایران نے جوہری سمجھوتے کی شرائط کی مرحلہ وار پاسداری نہ کرنے کااعلان کیا تھا اور اس نے یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔