.

فرانس میں ریستورانوں کی اضافی حدود تنازع کا سبب بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا کی وبا نے فرانس کے دارالحکومت کی فٹ پاتھوں کو ریستورانوں کے تجاوزات میں تبدیل کر دیا۔ تاہم اب یہ چیز پیرس کے باسیوں کے لیے تنازع کا باعث بن رہی ہے۔ رہائشی علاقوں میں دوبارہ سے معمول کی زندگی شروع ہونے کے سبب ریستورانوں کے آگے فٹ پاتھوں پر موجود افراد تنگی کا باعث بن رہے ہیں۔

علاوہ ازیں ریستورانوں کے مالکان کو مجبور کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ریستورانوں کے سامنے واقع کار پارکنگ کی جگہاؤں کو ریستورانوں کے گاہکوں کو کھلی ہوا میں بٹھانے کے واسطے استعمال کریں۔ اس کے نتیجے میں رہائشی علاقے کے مکین تنگی کا شکار ہو گئے کیوں کہ وہ اپنی گاڑیوں کو پارک کرنے سے محروم ہیں۔ بعض مرتبہ وہ پریس کی تنگ فٹ پاتھوں پر چل بھی نہیں پاتے۔

ریستوران کے مالکان نے پیرس کی بلدیہ سے اجازت نامہ حاصل کر لیا تا کہ دکانوں کے آگے فٹ پاتھ کو اضافی جگہ کے طور پر استعمال کر سکیں۔ ادھر بعض رہائش پذیر افراد نے بلدیہ میں اپنی شکایات پیش کیں۔ بعض مکینوں نے تجویز پیش کی ہے کہ پارک اور دیگر بڑے عوامی مقامات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ریستورانوں کی اضافہ جگہاؤں کے طور پر استعمال میں لایا جائے تا کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تنگی کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔

مقامی شہریوں کے مطابق پارکنگ کی جگہ ریستورانوں کے بیٹھنے کے اضافی انتظامات کے سبب بعض مرتبہ انہیں 20 منٹ تک اپنی گاڑی پارک کرنے کی جگہ تلاش کرنے میں گھومنا پڑتا ہے۔

چھ ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد فرانس کے ریستوران اور قہوہ خانوں نے پچاس فی صد کی گنجائش کے ساتھ اپنے دروازے گاہکوں کے لیے کھول دیے ہیں۔ مزید یہ کہ ایک میز پر زیادہ سے زیادہ چھ افراد کے بیٹھنے کی اجازت ہے۔