.

بیت اللہ کے پہلو میں رابطہ عالم اسلامی کی میزبانی میں افغانستان امن کانفرنس آج ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امن کی سر زمین اور بیت اللہ کے قریب رابطہ عالم اسلامی کی میزبانی میں مکہ مکرمہ میں آج جمعرات کو افغانستان امن کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس میں ’افغانستان میں امن کا اعلان‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز علما، دانشور، مختلف جماعتوں کے قائدین اور سفرا شرکت کریں گے۔

خانہ جنگی کے شکار افغانستان میں امن کے لیے یہ اب تک کی سب سےبڑی کانفرنس ہوگی جس کا مقصد افغانستان کے متحارب دھڑوں کے درمیان مفاہمت اور مصالحت کی راہ ہموار کرکے ملک کو جنگ کی تباہ کاریوں سے نجات دلانا اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کو دیر امن استحکام کی منزل کی طرف آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یہ کاوش مملکت سعودی عرب کی افغانستان میں قیام امن کی مساعی کا واضح ثبوت ہے۔

یہ تاریخی کانفرنس اس یقین کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہے کہ رابطہ عالم اسلامی نے مسلم امہ کے معاشروں کے مختلف طبقات کے درمیان پائے جانے والے اختلافات اور تنازعات کے حل میں ماضی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور سعودی عرب کی مقدس سرزمین میں مملکت کی قیادت کی قائدانہ کوششوں سے کئی معاشروں میں امن کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

جہاں تک افغانستان میں جاری لڑائی کا تعلق ہے تو اس کے پیچھے انتہا پسندی، جہالت، نسل پرستی اور تعصب جیسے عوامل کار فرما ہیں۔ اس لڑائی کو ختم کرنے کے لیے ان بنیادی عوامل کوختم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ محاذ آرائی کا شکار ہونے والے تمام گروپوں کو علم، آگہی، فکر کی روشنی، خالص ایمانی جذبات کے احیا، اسلام کے ارفع اصولوں، خیر کے عزائم کی حمایت اور شر اور شیطانی چالوں کے خلاف متحد ہو کر امن کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس منزل کے حصول میں مختلف مکاتب فکر کے علما کا ایک فورم پر بیٹھنا اور سر جوڑ کر امن کی تلاش کے لیے کوشش کرنا انتہائی ضروری ہے۔

افغانستان امن کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل الشیخ ڈاکٹر محمد عبدالکریم العیسیٰ، پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری، افغانستان کے وزیر حج محمد قاسم حلیمی، دونوں ملکوں کے کبار علما، پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر بلال اکبر، افغان سفیر احمد جاوید مجددی، پاکستان کے اسلامی تعاون تنظیم میں مستقل مندوب رضوان سعید شیخ اور دیگر شرکت کریں گے۔