.

حزب اللہ کا مالیاتی نیٹ ورک ، 7 افراد پر امریکا کی خصوصی نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے زیر انتظام پروگرام Reward for Justice کے تحت جمعرات کی شام ٹویٹر پر لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کے نام جاری کیے گئے۔

مذکورہ پروگرام کی ویب سائٹ پر حزب اللہ کی فنڈنگ کے حوالے سے ایک مربوط رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں 7 افراد کے ناموں کو واضح کیا گیا ہے۔

محمد قصير

یہ 1967ء میں جنوبی لبنان کے قصبے دیر قانون النہر میں پیدا ہوا۔ اس کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جن میں "الحاج فادی" نمایاں ترین عرفیت ہے۔ قصیر کو حزب اللہ کے لیے مالی رقوم فراہم کرنے والا مرکزی کردار شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کی جانب سے خرچ کی جانے والی رقم کے حوالے سے بھی اہم حیثیت رکھتا ہے۔

محمد قیصر
محمد قیصر

امریکی رپورٹ کے مطابق قصیر ان بہت سی کمپنیوں کی نگرانی میں مدد گار ہے جو تیل اور دیگر مصنوعات کی فروخت میں القدس فورس کے کردار کو مخفی رکھنے کے واسطے منظر عام پر استعمال ہوتی ہیں۔ قصیر حزب اللہ ملیشیا کے یونٹ 108 کی قیادت بھی کرتا ہے۔ یہ یونٹ القدس فورس کی رابطہ کاری سے اسلحہ ، ٹکنالوجی اور دیگر نوعیت کی سپورٹ کو شام سے لبنان منتقل کرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔

محمد قاسم البزال

البزال 1984ء میں لبنان کے شہر بعلبک میں پیدا ہوا۔ اس کی ذمے داریوں میں حزب اللہ اور القدس فورس کے درمیان مالی کھاتوں کی موافقت رکھنا شامل ہے۔ وہ Talaqi گروپ کا ایک بانی رکن بھی ہے۔

قاسم البزال
قاسم البزال

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق 2018ء کے اواخر سے البزال نے تلاقی گروپ اور دیگر کمپنیوں کو فنڈنگ، نظم و نسق اور تیل کی غیر قانونی کھیپوں کی ترسیل پر پردہ ڈالنے کے واسطے استعمال کیا۔

علی قصير

علی قصیر 1992ء میں جنوبی لبنان میں پیدا ہوا۔ وہ ایران میں حزب اللہ کا نمائندہ اور القدس فورس اور حزب اللہ کو نفع دینے والی مالی اور تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے کا مرکزی کردار ہے۔ وہ حزب اللہ کے ذمے دار محمد قصیر کا چھوٹا بھائی ہے۔

علی قیصر
علی قیصر

علی کی ذمے داریوں میں سامان کی فروخت کے نرخوں پر مذاکرات اور کارگو بحری جہازوں سے متعلق واجبات کے تصفیے شامل ہیں۔

محمد كوثرانی

نیٹ ورک میں چوتھا نام محمد کوثرانی کا ہے جو عراق کے صوبے نجف میں پیدا ہوا۔ وہ لبنانی اور عراقی شہریت رکھتا ہے۔ کوثرانی عراقی حزب اللہ کی فورسز کا ایک اہم کمانڈر شمار ہوتا ہے۔ وہ ایران کے ہمنوا بعض گروپوں کے درمیان سیاسی رابطہ کاری بھی سنبھال چکا ہے۔

٘محمد کوثرانی
٘محمد کوثرانی

اسی طرح وہ عراقی حکومت کے کنٹرول سے باہر جماعتوں کی کارروائیوں کے لیے سہولت کار بھی ہے۔

ادہم حسين طباجہ

طباجہ حزب اللہ کے اندر اعلی سطح کے انتظامی عناصر کے ساتھ براہ راست روابط رکھتا ہے۔ وہ حزب اللہ کی جانب سے لبنان میں جائیدادوں کی ملکیت کا حامل ہے۔

ادھم حسین طباچہ
ادھم حسین طباچہ

اسی طرح وہ اسی طرح وہ حزب اللہ کے زیر انتظام الانماء پراپرٹی کمپنی میں زیادہ تر حصص کا مالک ہے۔

محمد ابراهيم بزی

محمد ابراہيم بزی 1964 میں پیدا ہوا۔ وہ لبنان کے علاوہ بیلجیم کی شہریت بھی رکھتا ہے۔ حزب اللہ کی فنڈنگ کرنے والا ایک مرکزی کردار ہے۔ اپنی تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے حزب اللہ کو لاکھوں ڈالر پیش کر چکا ہے۔

محمد ابراہیم بزی
محمد ابراہیم بزی

امریکی وزارت خارجہ کے پروگرام Reward for Justice کے مطابق بزی درج ذیل کمپنیوں کا مالک ہے :

Global Trading Group NV, Euro African Group LTD, Africa Middle East Investment Holding SAL, Premier Investment Group SAL Offshore, and Car Escort Services .S.A.L. Off Shore


علی يوسف شرارہ

حزب اللہ کے مالی نیٹ ورک میں ساتواں اور آخری نام علی يوسف شرارہ کا ہے۔ وہ 1968ء میں لبنان کے جنوبی شہر صیدا میں پیدا ہوا۔ وہ بھی حزب اللہ کو فنڈنگ فراہم کرنے والی مرکزی شخصیات میں سے ہے۔ شرارہ Spectrum Investment Group Holding SAL. کے مینجمنٹ بورڈ کا چیئرمین بھی ہے۔ اسے تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے حزب اللہ کی جانب سے کروڑوں ڈالر ملے۔

علی یوسف شرارہ
علی یوسف شرارہ

یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق حزب اللہ ایران ، عالمی تجارتی سرگرمیوں کی حامل کمپنیوں، سرمایہ کاری، عطیہ کنندگان کے نیٹ ورکوں، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کی براہ راست سپورٹ کے ذریعے سالانہ ایک ارب امریکی ڈالر حاصل کر لیتی ہے۔