.

حزب اللہ فرانس میں اپنا جال بُن رہی ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی فرانس میں سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سرگرمیاں محض افکار و نظریات کی منتقلی تک محدود نہیں رہیں بلکہ زیادہ خطرناک شعبوں تک پھیل چکی ہیں۔

فرانسیسی جریدے لوبوان نے ملک میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کے متعلق اپنی تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کا عنوان ہے "حزب اللہ فرانس میں اپنا جال بُن رہی ہے".

رپورٹ کے مطابق لبنانی ملیشیا نظریات اور افکار فرانس میں درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ گولہ بارود ذخیرہ کر رہی ہے اور منی لانڈرنگ بھی انجام دے رہی ہے۔

جریدے کا کہنا ہے کہ مذکورہ معلومات کے تانے بانے اس وقت سامنے آئے جب امریکا نے فرانس سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی باشندے مازن الاتات کو حوالے کرے۔ مازن پر حزب اللہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام ہے۔

لوبوان جریدے کے مطابق ایک لبنانی فرانسیسی نیٹ ورک پر الزام ہے کہ اس نے کولمبیا میں منشیات کی ٹولیوں کے واسطے منی لانڈرنگ کی۔ سال 2018ء میں پیرس کی عدالت نے مازن الاتات سمیت 13 ملزمان کے خلاف دو سے نو سال تک کی جیل کی سزا سنائی۔

اس نیٹ ورک کے ارکان نے یورپ میں منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے مالی رقوم اکٹھا کیں اور ان سے زیورات اور قیمتی گھڑیاں اور گاڑیں خرید لیں۔ بعد ازاں ان چیزوں کو دوبارہ لبنان میں یا پھر افریقا کے راستے فروخت کر دیا گیا ،،، اور پھر اپنا کمیشن لے کر منی لانڈرنگ کولمبیا واپس بھیج دی۔

بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ان کارروائیوں کی 20% آمدنی حزب اللہ کے خزانوں میں پہنچ رہی تھی۔ تاہم انسداد منشیات کی ایجنسی نے خصوصی آپریشن کے ذریعے اس نیٹ ورک کو تحلیل کر دیا۔ جہاں تک یورپ سے بیروت رقوم کی منتقلی کا تعلق ہے تو تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ کام افراد کے ذریعے انجام پاتا ہے جو نقد مالی رقوم لے کر تجارتی طیاروں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں الما انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز کی ڈائریکٹر ساریت زیفاہی کا کہنا ہے کہ گذشتہ سالوں کے دوران میں مشرق وسطی اور یورپ میں حزب اللہ کی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حزب اللہ اس عمل کو مخفی رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مذہبی تنظیموں کا استعمال کیا جا سکتا ہے تا کہ حزب اللہ کا نام استعمال ہوئے بغیر مجرمانہ سرگرمیاں انجام دی جا سکیں۔ زیفاہی کے مطابق حزب اللہ تقریبا ایک دہائی سے بعض سرگرمیوں کے ذریعے اپنی فنڈنگ کر رہی ہے۔ یہ اقدام ایرانی کی جانب سے ہونے والی فنڈنگ کے ساتھ کیا گیا۔

الزہراء مرکز

اس میں فرانس کے میدان میں موجود مذہبی بلاک شامل ہے۔ اس کے لیے حزب اللہ سے منسلک مساجد اور ثقافتی مراکز استعمال ہوتے ہیں۔ فرانس کے شمال میں گراند سینت میں واقع الزہراء مرکز کے ڈائریکٹر یحیی قواسمی نے ایک روز بھی حزب اللہ کے لیے اپنی سپورٹ کو نہیں چھپایا۔ یہاں تک کہ اس کے وکیل نے بھی باور کرایا کہ "فرانسیسی عدلیہ اس کے مؤکل کو حزب اللہ سے رابطے کے الزام میں قصور وار قرار دے رہی ہے جو کہ دہشت گرد تنظیم شمار ہوتی ہے۔ تاہم قواسمی کے نزدیک یہ ایک مزاحمتی تحریک ہے"۔

البتہ قواسمی انٹرنیٹ پر ایران، اس کے رہبر اعلی (علی خامنہ ای) اور خمینی کی حمایت میں اپنے نظریات کا پرچار کرتا ہے۔