.

سعودی عرب کےحج انتظامات پر’او آئی سی‘ کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی طرف سے رواں سال فریضہ حج کےمتعلق انتظامات پر عالم اسلام اور اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کی طرف سے خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ سعودی عرب کی طرف سے رواں سال حج کومحدود کرنے، مناسک حج کے موقعے پر مقامی اور غیرملکی مسلمانوں کے لیے صحت کے انتظامات کی تحسین کی ہے۔

’او آئی سی‘ کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمد العثیمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وبا کے دنوں میں سعودی عرب کی حکومت نے فریضہ حج کی ادائی سے متعلق جو تدابیر اور انتظامات کیے ہیں وہ قابل قدر ہیں۔

انہوں نے گذشتہ برس فریضہ حج کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے سعودی اقدامات کو بھی سراہا۔ یوسف بن عثیمین کا کہنا تھا کہ او آئی سے کے میزبان ملک سعودی عرب نے کرونا وبا کے آغاز ہی سے وبا کا پھیلاؤ روکنے اور اس کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے تھے۔

انہوں نے سعودی عرب کی طرف سے شہریوں کو کرونا ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے موثر اقدامات اور بروقت ویکسین کی فراہمی پر حکومت کے کردار کو سراہا۔

دوسری طرف خلیج تعاون کونسل نے بھی رواں سال کرونا وبا کی وجہ سے حج کو مقامی شہریوں اور سعودی عرب میں موجود مسلمانوں تک محدود رکھنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کی کبار علما نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے فریضہ حج کو محدود کرنے کا فیصلہ شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

آج ہفتے کے روز سعودی عرب کی وزارت حج وعمرہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال فریضہ حج کے موقع پر صرف 60 ہزار مسلمانوں کو حج کی اجازت ہوگی۔ ان میں مقامی سعودی مسلمان اور دوسرے ملکوں کے مسلمان باشندے شامل ہوں گے۔