.

فریضہ حج اندرون ملک کے سعودی اور مقیم عازمین تک محدود کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزارت حج و عمرہ نے امسال فریضہ حج کی ادائیگی اندرون ملک کے عازمین تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت کے اعلان کے مطابق ’سال رواں کے حج میں صرف 60 ہزار شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو فریضے کی ادائی کی اجازت ہوگی‘۔

’دنیا بھر میں کورونا وبا کی صورتحال اور وائرس کی نئی شکلیں ظاہر ہونے کے باعث فریضے کی ادائیگی اندرون ملک کے عازمین تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’18 سال سے 65 سال کی عمر کے ان عازمین کو حج کی اجازت ہوگی جنہوں نے کورونا ویکسین لگوا رکھی ہے‘۔

’وزارت و عمرہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ سعودی حکومت کے نزدیک عازمین حج کی سلامتی اولین ترجیح ہے، انسانی جانوں کی سلامتی کا تحفظ اسلامی شریعت کا بھی اولین اصول ہے‘۔

’عالمی وبا کے باعث مشاعر مقدسہ میں بڑی بھیڑ لگانا اور ان میں سلامتی کے اصولوں کا انطباق کرنا انتہائی مشکل کام ہے‘۔

’لہذا تمام تر صورتحال اور خدشات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ امسال بھی اس فریضے کی ادائیگی کو محدود کیا جائے گا‘۔

’یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اندرون ملک سے حج کے خواہشمند آن لائن طریقہ سے حج کی درخواست جمع کرائیں گے‘۔

وزارت حج نے کہا ہے کہ ’امسال حج کے لئے جن ضوابط کا اعلان کیا جارہا ہے وہ اس طرح ہیں کہ خواہشمند سعودی شہری ہوں یا سعودی عرب میں مقیم کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والا غیر ملکی ہو‘۔

’خواہشند صحت مند اور توانا ہو، کسی بھی قسم کی مستقل بیماریوں میں مبتلا نہ ہو‘۔

’خواہشمند کی عمر 18 سے 65 سال کے درمیان ہو اور کورونا ویکسین حاصل کرچکا ہو۔ توکلنا ایپ میں اس کا سٹیٹس دو خوراکیں، ایک خوارک کو 14 دن ہوگئے یا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ویکسین لگوانے والے ظاہر ہو رہا ہو‘۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’حج کے لئے مذکورہ بالا ضابطوں کی پابندی خود عازمین حج کی سلامتی اور ان کے اپنے ملکوں کے تحفظ کے لئے ہے‘۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’رواں سال حج کے ضابطے اور مزید تفصیلات کے لئے وزارت حج کے صدر دفتر میں آج پریس کانفرنس منعقد ہوگی‘۔