.

حجاج اور معتمرین کے لیے شروع کردہ عوامی بس سروس منصوبہ کیسا ہو گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ ریجن کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے مکہ پروجیکٹ کے تحت نئے پبلک بس منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔ پبلک بس منصوبہ مملکت کے وژن 2030 کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔

تفصیل کے مطابق ’ڈیجیٹل مکہ نمائش‘ حال ہی میں مکمل ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے گنبد ’جدہ سپرڈوم ‘ میں منعقد کی جا رہی ہے۔

سپر ڈوم میں مکہ ریجن میں پیش کی جانے والی ترقیاتی خدمات کو جدید انداز میں آنے والوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

شہزادہ خالد الفیصل نے نمائش میں بپلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پیش کیے جانے والے جامع منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد بس منصوبے کا افتتاح کیا۔ منصوبے کا مقصد مکہ کے مرکزی علاقے تک آمد ورفت کو آسان بناتے ہوئے بہترین اور معیاری ٹرانسپورٹ سروس مہیا کرنا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بس منصوبہ دو مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ 12 روٹس اور 83 سٹیشنز پر مشتمل ہوگا جس میں درمیانے حجم کی بسیں استعمال کی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں استعمال ہونے والی بسیں مخصوص روٹ پر چلیں گی جن کی مسافت 172 کلو میٹر ہو گی جبکہ اس کے سٹیشنز کی تعداد 342 ہو گی۔

بس منصوبے کے تحت 400 جدید ترین بسیں درآمد کی جائیں گی جن میں سے 240 بسیں 12 میٹر کی ہوں گی۔ ہر بس میں 85 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ دوسرا مرحلہ جس میں 18 میٹر کی بسیں شامل ہیں جن میں 125 افراد کی گنجائش ہو گی۔

بسوں کو ماحول دوست بنایا گیا ہے جن سے کاربن کا اخراج کم سے کم ہو گا جس سے ماحول کے متاثرہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔

نئی بسوں میں انٹرنیٹ (وائی فائی) کی سہولت کے لیے آگ بجھانے کا جدید ترین نظام نصب کیا گیا ہے جبکہ بس کے اندر اور باہر نگرانی کے لیے خصوصی کیمرے نصب ہیں۔

شہزادہ خالد الفیصل ماڈل بس منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں
شہزادہ خالد الفیصل ماڈل بس منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں

حادثات سے بچاؤ کے لیے الیکٹرانک سسٹم بس میں نصب کیا گیا ہے جبکہ مخصوص افراد کی سہولت کے لیے ہائیڈرالک سسٹم بھی بس میں نصب کیا گیا ہے۔ مسافروں کی معلومات کے لیے بس میں ڈیجیٹل سکرینز لگائی گئی ہیں۔ بس ایک دن میں مسلسل 22 گھنٹے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بس منصوبے سے جہاں عازمین حج کو فائدہ ہو گا وہاں مکہ مکرمہ میں رہنے والے بھی اس سروس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

منصوبہ مکمل ہونے کے بعد حج سیزن کے علاوہ عام دنوں میں عوامی ٹرانسپورٹ سے لوگوں کو مکہ مکرمہ کے مختلف علاقوں سے حرم مکی آنے اور واپس جانے میں کافی سہولت ہوگی جس سے سڑکوں پر ہونے والے رش سے بھی نجات ملے گی۔