.

لبنان کے ٹوٹنے کا صرف حزب اللہ کو فائدہ ہوگا :فرانسیسی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان اطلاعات کے بعد کہ لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے اقدامات اور سرگرمیاں فرانس میں متعدد طریقوں سے پھیل رہی ہیں۔ فرانسیسی سینیٹ کی رکن نیٹلی گولیٹ نے ہفتے کے روز زور دے کر کہا کہ یورپ میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے طریقہ کار میں سقم موجود ہیں۔

العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ایک خطرناک دہشت گرد تنظیم ہے۔ انہوں نےکہا کہ حکومتی عہدیداروں نے حکومت کو بار بار دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔

انہوں نےکہا کہ لبنان میں انتشار اور ملک ٹوٹنے کا فائدہ صرف حزب اللہ کو ہوگا۔

فرانسیسی سینیٹر نے امریکا کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ امریکا حزب اللہ کے خطرے کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔

حزب اللہ ملیشیا کے اقدامات اب بظاہر ان نظریات تک ہی محدود نہیں رہے جو وہ وہاں برآمد کیے گئےہیں بلکہ یہ دوسرے خطرناک میدانوں میں بھی پھیل چکے ہیں۔

فرانسیسی میگزین لی پوائنٹ نے ملک میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کی ایک وسیع تحقیقات کے عنوان سے شائع کیا کہ حزب اللہ اپنے نیٹ ورک کو فرانس میں منظم کررہی ہے۔

فرانسیسی جریدے لوبوان نے ملک میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کے متعلق اپنی تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کا عنوان ہے "حزب اللہ فرانس میں اپنا جال بُن رہی ہے".

رپورٹ کے مطابق لبنانی ملیشیا نظریات اور افکار فرانس میں درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ گولہ بارود ذخیرہ کر رہی ہے اور منی لانڈرنگ بھی انجام دے رہی ہے۔

جریدے کا کہنا ہے کہ مذکورہ معلومات کے تانے بانے اس وقت سامنے آئے جب امریکا نے فرانس سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی باشندے مازن الاتات کو حوالے کرے۔ مازن پر حزب اللہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام ہے۔

لوبوان جریدے کے مطابق ایک لبنانی فرانسیسی نیٹ ورک پر الزام ہے کہ اس نے کولمبیا میں منشیات کی ٹولیوں کے واسطے منی لانڈرنگ کی۔ سال 2018ء میں پیرس کی عدالت نے مازن الاتات سمیت 13 ملزمان کے خلاف دو سے نو سال تک کی جیل کی سزا سنائی۔

اس نیٹ ورک کے ارکان نے یورپ میں منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے مالی رقوم اکٹھا کیں اور ان سے زیورات اور قیمتی گھڑیاں اور گاڑیں خرید لیں۔ بعد ازاں ان چیزوں کو دوبارہ لبنان میں یا پھر افریقا کے راستے فروخت کر دیا گیا ،،، اور پھر اپنا کمیشن لے کر منی لانڈرنگ کولمبیا واپس بھیج دی۔

بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ان کارروائیوں کی 20% آمدنی حزب اللہ کے خزانوں میں پہنچ رہی تھی۔ تاہم انسداد منشیات کی ایجنسی نے خصوصی آپریشن کے ذریعے اس نیٹ ورک کو تحلیل کر دیا۔ جہاں تک یورپ سے بیروت رقوم کی منتقلی کا تعلق ہے تو تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ کام افراد کے ذریعے انجام پاتا ہے جو نقد مالی رقوم لے کر تجارتی طیاروں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں الما انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز کی ڈائریکٹر ساریت زیفاہی کا کہنا ہے کہ گذشتہ سالوں کے دوران میں مشرق وسطی اور یورپ میں حزب اللہ کی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حزب اللہ اس عمل کو مخفی رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مذہبی تنظیموں کا استعمال کیا جا سکتا ہے تا کہ حزب اللہ کا نام استعمال ہوئے بغیر مجرمانہ سرگرمیاں انجام دی جا سکیں۔ زیفاہی کے مطابق حزب اللہ تقریبا ایک دہائی سے بعض سرگرمیوں کے ذریعے اپنی فنڈنگ کر رہی ہے۔ یہ اقدام ایرانی کی جانب سے ہونے والی فنڈنگ کے ساتھ کیا گیا۔