.

شالی عراق میں ترکی کا حملہ ، کردستان ورکرز پارٹی کے 5 ارکان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج اتوار کے روز ترکی کی فوج نے عراق کے شمالی صوبے سلیمانیہ میں ایک گاڑی کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار کردستان ورکرز پارٹی کے 5 ارکان مارے گئے۔ یہ بات کرد ذرائع ابلاغ نے بتائی۔ کردستان ورکرز پارٹی طویل عرصے سے ترکی کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔

دوسری جانب ترک وزارت دفاع نے باور کرایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پورے عزم کے ساتھ جاری ہیں۔

ترکی نے رواں سال 23 اپریل کو شمالی عراق میں متینا اور افشین کے علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف بیک وقت دو فوجی آپریشن شروع کیے تھے۔

یاد رہے کہ کردستان ورکرز پارٹی نے شمالی عراق میں قندیل کی پہاڑیوں میں اپنا گڑھ بنایا ہوا ہے۔ وہ علاقے میں کئی شہروں اور وادیوں میں سرگرم ہے۔

ترکی کے انٹیلی جنس اداروں نے شمالی عراق میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کے نزدیک خصوصی کارروائی میں کردستان ورکرز پارٹٰ کے ایک کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ یہ بات سرکاری ذرائع ابلاغ نے جمعے کے روز بتائی۔

ترک نیوز ایجنسی اناضول کے مطابق مارا جانے والا کمانڈر حسن ادیر "صالح جزرہ" کی عرفیت سے مشہور تھا۔ وہ کردستان ورکرز پارٹی کا مقامی کمانڈر تھا۔ انقرہ اور اس کے مغربی حلیف ممالک پارٹی کو دہشت گرد تنظیموں میں شمار کرتے ہیں۔

ترکی اکثر و بیشتر سرحد پار کارروائیاں اور عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے پس پردہ اڈوں پر فضائی حملے کرتا رہتا ہے۔ اس کے سبب دونوں پڑوسی ملکوں کے بیچ تعلقات کشیدگی کا شکار ہوتے ہیں۔

کردستان ورکرز پارٹی نے 1984ء سے ترکی کے جنوب مشرق میں کرد اکثریت علاقے میں بغاوت کا پرچم سربلند کر رکھا ہے۔ اس وقت سے اب تک تقریبا 40 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔