.

ترکی نے S-400 ڈیل کے مقابل کابل ایئرپورٹ کی سیکورٹی کی پیش کش کی : امریکی ذمے داران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن آئندہ جب اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کریں گے تو انہیں افغانستان سے امریکی افواج اور اس کے حلیفوں کے انخلا کے سلسلے میں اپنے منصوبوں کے حوالے سے ممکنہ چیلنج کا سامنا ہو گا۔ توقع ہے کہ ایردوآن افغان دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے کو سیکورٹی فراہم کرنے کا سلسلسہ جاری رکھنے کے مقابل رعائتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ان رعائتوں میں امریکا کی جانب سے اس بات پر آمادگی شامل ہے کہ ترکی ،،، روسی فضائی دفاعی نظام S-400 کو برقرار رکھے اور اسے استعمال کرے۔ امریکا اب تک ترکی کے اس نظام کو رکھنے کی شدید مخالفت کرتا آیا ہے۔ اس کے سبب نیٹو اتحاد میں شامل دو حلیفوں کے تعلقات میں ایک بڑی دراڑ آ گئی ہے۔

برسلز میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ملاقات میں بات چیت کا محور کابل ایئرپورٹ کو محفوظ بنانے میں ترکی کا کردار ہو گا۔ یہ بات امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے بتائی۔

ترکی یہ کہہ چکا ہے کہ جولائی میں جب جو بائیڈن افغانستان میں امریکا اور نیٹو اتحاد کی موجودگی کو ختم کریں گے اور ترکی بھی کابل کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی کا مشن ختم کر کے افغانستان سے کوچ کر سکتا ہے۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک یا کمپنی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ جلد یا سہولت کے ساتھ ہوائی اڈے کی سیکورٹی کے از سر نو انتظامات کرے۔ ترکی کا کوچ کرنا سفارت خانوں اور بین الاقوامی تنظیموں کو کام بند کرنے پر مجبور کر گا۔ اس کے سبب افغان حکومت اور فوج کا کام جاری رکھنے کے لیے اربوں ڈالر بطور اضافی امداد خرچ کرنا ہوں گے۔

امریکا یہ امید بھی کر رہا تھا کہ وہ کسی نزدیکی جگہ پر بقیہ عسکری فورس برقرار رکھے گا تاہم کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ اس حوالے سے معاہدہ نہ ہو سکا۔ غالبا روس وسطی ایشیا میں کسی بھی نئے فوجی اڈے کی شدید مخالفت کرے گا۔ پاکستان کے ساتھ بھی سمجھوتا نہ ہوا۔

امریکی دفاعی ذمے داران کے مطابق اس کے بدلے موجودہ وقت میں امریکی سپورٹ "ایم کیو 9" ڈرون طیاروں تک محدود ہو جائے گی۔ یہ طیارے متحدہ عرب امارات میں الظفرہ کے اڈے پر تعینات ہیں۔ یہ طیارے افغانستان کے اوپر اڑان بھر کر امریکی کی حمایت یافتہ مقامی فورسز کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کریں گے۔

ذمے داران کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ امریکی فورسز کے کوچ کے بعد افغان فورسز کو کس طرح سپورٹ کیا جائے گا۔ تاہم توقع ہے کہ پینٹاگان رواں ہفتے میں سرکاری طور پر سفارشات پیش کرے گا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان سے اپنا 50% ساز و سامان نکال لیا ہے۔

علاقائی ذمے داران کا کہنا ہے کہ ترکی کا روسی فضائی دفاعی نظامS-400 کا اپنی ملکیت میں لینا غالبا سودے بازے کے لیے اہم کارڈ ہو گا۔ امریکا نے اس کی خریداری کی مخالفت کی اور ترکی کے دفاعی سیکٹر پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ترکی کو واشنگٹن کے زیر قیادت F-35 لڑاکا طیاروں کی تیاری کے پروگرام سے بھی بے دخل کر دیا گیا۔

ممکنہ فیصلوں میں سے یہ ہو سکتا ہے کہS-400 دفاعی نظام کو نیٹو کے اڈے میں رکھا جائے یا پھر اسے کسی تیسرے ملک مثلا آذربائیجان وغیرہ کی جانب سے چلایا جائے۔

واضح رہے کہ مسلح افراد معمول کے ساتھ کابل کے ہوائی اڈے پر راکٹ داغتے ہیں۔ یہ حملے بڑھ بھی سکتے ہیں۔

ایردوآن آخری چند برسوں میں مغرب کے ساتھ بارہا جھڑپوں میں پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی نے روسی میزائل خریدے اور شام اور لیبیا کے تنازعات میں مداخلت بھی کی۔