.

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اپنے ملک کی مساجد پرحملوں کے ردعمل پر فلم کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے پیر کو کرائسٹ چرچ کی مساجد پر دہشت گردی کے حملوں پرردعمل کے بارے میں ایک فلم کی ریلیز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے یہ فلم غلط وقت اور غلط عنوان سے جاری کی گئی ہے۔

امریکی فلم "دی آر ایسہ" (وہ ہم ہیں) نے نیوزی لینڈ کے مسلمانوں میں پرتشدد ردعمل کو جنم دیا ہےاور کمیونٹی رہ نماؤں نے "وائٹ سیور" کلچر کو فروغ دینے کے منصوبے پر تنقید کی۔

ہالی ووڈ کے رپورٹر جریدے نے بتایا تھاکہ کہ نیوزی لینڈ کے اینڈریو نکول اس فلم کے رائٹر اور پروڈیوسر ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ ان حملوں کے بارے میں اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا ارڈن نے ان سے نمٹنے کے بارے میں کیا تھا۔

خیال رہےکہ 15 مارچ 2019 کو ایک آسٹریلیائی بندوق بردار نے دو مساجد پر فائرنگ کرکے 51 مسلمانوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کردیا تھا۔ وزیراعظم آڈرن کاکہنا ہے کہ یہ حملے ابھی بھی بہت سے نیوزی لینڈ کے لوگوں کے ذہنوں میں "زندہ" ہیں۔

آرڈرن نے پبلک براڈکاسٹر ٹی وی این زیڈ کو بتایا کہ میری رائے میں فلم کی ریلیز عجلت میں کی گئی اور یہ ایک غلط فیصلہ ہے۔

نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے قتل عام کے متاثرین کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے ملک کے اسلحہ کنٹرول کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔