.

مصری بچہ Syndrome میں مبتلا ہونے کے باعث عربی بولنے سے قاصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صوبے اسکندریہ میں 15 سالہ لڑکا "بیبرس ممدوح عمرو" عجیب عارضے میں مبتلا ہے۔ اپنی پیدائش کے وقت سے لے کر اب تک وہ انگریزی کے سوا کوئی زبان نہیں بولتا۔ عرب ہونے کے باوجود وہ عربی زبان کا کوئی حرف ادا نہیں کر سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بیبرس کے گھر کا دورہ کر کے اس سے ملاقات کی۔ بیبرس کی والدہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی زبان عربی بولنے سے قاصر ہے جو کہ بیبرس کی مادری زبان ہے۔ بیبرس اپنے بچپن سے ہی صرف انگریزی زبان بول سکتا ہے۔

بیبرس کی والدہ کے مطابق ان کا بیٹا Asperger syndrome کا شکار ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ "تنہا پن" کی ایک صورت ہے۔ یہ بیماری لغوی قدرت اور حرکت کرنے کی قدرت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

بیبرس کی والدہ نے مزید بتایا کہ اس مشکل کا آغاز بیبرس کی پیدائش کے وقت سے ہوا جب وہ "كاواساكی" کے مرض میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اس وقت بیبرس اپنے گھرانے کے ساتھ ابوظبی میں مقیم تھا۔ دو سال بعد چلنا سیکھنے پر انکشاف ہوا کہ بیبرس کی حرکت میں گڑبڑ ہے۔

والدہ کے مطابق بیبرس نے تاخیر کے ساتھ 4 برس کی عمر میں بولنا شروع کیا۔ بیبرس کی والدہ کو معلوم نہ ہو سکا تھا کہ بولنے میں تاخیر کا سبب یہ تھا کہ ان کا بچہ عربی زبان کو مسترد کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ ایک رات انہوں نے بیبرس کو ایک لفظ بولتے ہوئے سنا مگر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ انگریزی کا لفظ "Dangerous" تھا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ 7 برس کی عمر میں بچے نے انگریزی کے الفاظ کو جملوں اور عبارتوں میں تبدیل کرنا شروع کر دیا۔

بیبرس کی والدہ نے بتایا کہ عربی زبان نہ بول پانے کے سبب ان کے بیٹے کو بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بیبرس نے 8 مختلف اسکولوں میں داخلہ لیا اور اب وہ دوسری جماعت میں پہنچا ہے۔

بیبرس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انگریزی اب اس کی پہلی زبان بن چکی ہے۔ وہ اس کے سوا کوئی زبان نہیں بول سکتا۔ عربی بولنا اس کے لیے شدید دشوار ہے۔

اپنے مستقبل کے حوالے سے بیبرس کا کہنا ہے کہ "مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک روز میں عظیم شخصیت بن جاؤں گا ،،، میں اس کی کوشش کر رہا ہوں ،،، میں لوگوں کو مسرت دینا چاہتا ہوں تا کہ وہ مایوس نہ ہوں"۔

بیبرس کے مطابق ابتدا میں اسے زبان کے مختلف ہونے کے سبب برے رویے کا شکار ہونا پڑتا تھا تاہم بعد ازاں اسے معاملہ سمجھ آ گیا اور وہ اس کا عادی ہو گیا۔

بیبرس کو سائنس بالخصوص فزکس اور کیمسٹری میں بڑی دل چسپی ہے۔ اس کی آرزو ہے کہ وہ ایک روز سائنس دان بن جائے۔