.

امریکا اور روس کا اپنے اپنے سفیروں کی ماسکو اور واشنگٹن میں واپسی کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور روس نے اپنے اپنے سفیروں کی ایک دوسرے کے دارالحکومت میں واپسی سے اتفاق کیا ہے۔جنیوا میں بدھ کو روسی صدر ولادی میرپوتین نے امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے سفیروں کی ان کے مناصب پر واپسی کا اعلان کیا ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق اس سربراہ ملاقات میں امریکا اور روس نے ایک مشترکہ اعلامیے کی بھی منظوری دی ہے۔اس کے تحت جوہری جنگ کو روکنے کے طریقے تلاش کیے جائیں گے۔

صدرولادی میرپوتین نے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں روس میں اپنے سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے،جیل میں ڈالنے یا انھیں قتل کرنے سے متعلق سوالوں کے جواب نہیں دیے ہیں۔

انھوں نے امریکی کمپنیوں اور سرکاری اداروں پر سائبرحملوں کے بارے میں کہا کہ ان میں ان کا یا کریملن کا کوئی کردار نہیں ہے۔اس کے بجائے انھوں نے امریکا میں مقیم ہیکروں پر دنیا میں ہونے والے بیشترسائبرحملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔تاہم روسی صدر نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

دریں اثناء روس کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں متعیّن روسی سفیر جون کے آخر میں امریکا لوٹ جائیں گے۔

ماسکو میں متعیّن امریکی سفیر جان سلیوان اس سال کے اوائل میں واپس چلے گئے تھے۔ان کے بارے میں کریملن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کے حکام سے مشاورت کے لیے واشنگٹن گئے ہیں۔

امریکی سفیرکی روس سے واپسی سے قبل صدر جوبائیڈن نے صد پوتین کو ایک قاتل قراردیا تھا۔اس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔