.

ریاض معاہدے پر عمل درامد کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہتے ہیں : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "ریاض معاہدے" پر عمل درامد یمن میں امن و استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔

منگل کے روز جاری ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ یمن کے لیے امریکی ایلچی ٹم لینڈرکنگ سعودی اور یمنی حکومتوں کے سینئر ذمے داران کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس بھی موجود ہوں گے۔ ملاقات میں یمن میں ایک جامع فائر بندی کو یقینی بنانے کے لیے جاری کوششیں زیر بحث آئیں گی۔ لینڈرکنگ آج بدھ کے روز سے سعودی عرب کا سرکاری دورہ شروع کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ پہلے ہی یمن میں تنازع ختم کرانے کی ضرورت کو باور کرا چکی ہے۔ تنظیم کے مطابق مکالمہ پیچیدہ ہے مگر یہ واحد حل ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا کہنا ہے کہ ریاض معاہدے پر عمل درامد یمن کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرانے کا ضامن ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس میں اپنی بریفنگ کے دوران کہی۔

گریفتھس نے مزید کہا کہ سعودی عرب وہاں (یمن میں) جنگ روکنے کے لیے استثنائی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن میں فائر بندی کا انسانی پہلو سے بڑا مثبت اثر ہو گا۔

گریفتھس کے مطابق حوثی ملیشیا نے فائر بندی کے لیے الحدیدہ کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈے کے حوالے سے معاہدے کی شرط رکھی ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے یمن میں فائر بندی تک پہنچنے کے لیے سلطنت عمان کی حالیہ بھرپور کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عمان نے اس مقصد کے لیے اپنے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کو رواں ماہ 9 جون کو صنعاء اور ریاض بھیجا۔ یقینا سلطنت عمان تنازع کے حل میں ایک بڑی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ حوثیوں کی جانب سے مارٹن گریفتھس کے کئی ماہ کے بائیکاٹ کے بعد اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے 28 مئی کو حوثیوں سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات عمان کے دارالحکومت مسقط میں گریفتھس اور حوثیوں کے رہ نما محمد عبدالسلام کے بیچ ہوئی۔ بعد ازاں گریفتھس نے صنعاء کا دورہ کیا جو 31 مئی کو اختتام پذیر ہوا۔ گذشتہ ماہ کے آخری روز اپنی پریس کانفرنس میں گریفتھس نے بتایا کہ انہوں نے حوثیوں کے رہ نما کے ساتھ چار نکاتی منصوبے پر بات چیت کی۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے ایران کا دو روزہ دورہ بھی کیا۔ اس دوران انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات میں یمن کے حوالے سے بات چیت کی۔