.

صدارتی انتخابات میں بہترٹرن آؤٹ سے بیرونی دباؤ میں کمی لانے میں مدد ملے گی:خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ہم وطنوں پر زوردیا ہے کہ وہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھرپورحصہ لیں۔ان کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ اورایران پر بیرونی دباؤ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

خامنہ ای نے صدارتی انتخابات سے دوروز قبل بدھ کوایک نشری تقریرمیں کہا ہے کہ ’’اگر لوگ پولنگ کے عمل میں بھرپور طریقے سے شریک نہیں ہوتے ہیں تو دشمن کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔اگر ہم دباؤ اور پابندیوں میں کمی چاہتے ہیں تو لوگوں کی شرکت میں اضافہ ہونا چاہیے اور نظام کو حاصل عوامی مقبولیت دشمن پر ظاہرہونی چاہیے۔‘‘

خامنہ ای نے کہا کہ تمام ایرانیوں کو اپنی اپنی سیاسی ترجیحات سے قطع نظرجمعہ کو اپنااپنا ووٹ ڈالنا چاہیے۔انھوں نے امریکی اور برطانوی میڈیا پرالزام عاید کیا کہ ’’وہ ایرانیوں کی ووٹنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ شکنی کررہا ہے اور صدارتی انتخابات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔‘‘

اب تک تجزیہ کاروں کے مطابق رہبرِاعلیٰ کی اپیل کے باوجود ایران میں ان صدارتی انتخابات میں ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ متوقع ہے کیونکہ لوگ انتخابی عمل میں کوئی زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔

ایران کی شورائے نگہبان نے سیکڑوں امیداواروں میں سے صرف سات کو صدارتی انتخاب لڑنے کا اہل قراردیا تھا لیکن ان میں سے بھی تین امیدوارآج دستبردار ہوگئے ہیں۔سابق نائب صدر اور واحد اصلاح پسند صدارتی امیدوار محسن مہرعلی زادہ،قدامت پسند رکن پارلیمان علی رضا زاکانی اور ایران کے سابق اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعیدجلیلی نے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہرہونے کا اعلان کردیا ہے۔

مہرعلی زادہ نے کسی صدارتی امیدوار کی حمایت کا تو اعلان نہیں کیا ہے لیکن ان کی دستبرداری کا فیصلہ مرکزی بنک کے سابق گورنرعبدالناصر ہمتی کو فتح دلوانے کی ایک کوشش ہوسکتا ہے۔عبدالناصرہمتی کودوسرے صدارتی امیدواروں کے مقابلے میں’’اعتدال پسند‘‘ قراردیا جارہا ہے۔بعض اصلاح پسند گروپوں نے ہمتی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب زاکانی اور سعید جلیلی نے عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔رئیسی آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور انھیں اب تک سب سے مضبوط صدارتی امیدوار خیال کیا جارہا ہے۔

60 سالہ ابراہیم رئیسی نے 2017ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا مگر وہ موجودہ صدر حسن روحانی کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔اگر وہ ان صدارتی انتخاب میں بھی شکست سے دوچار ہوجاتے ہیں تو پھر ان کا آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ رہبرِاعلیٰ بننے کا امکان معدوم ہوجائے گا۔

انھیں آیت اللہ خامنہ ای نے 2019ء میں ایرانی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔اسی سال امریکا نے ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان پر 1980ء کے عشرے میں قتلِ عام کے واقعات میں ملوّث ہونے کے الزامات بھی عاید کیے جاتے ہیں۔

مرکزی بنک کے سابق گورنرعبدالناصر ہمتی کے علاوہ ان کے مدمقابل دوسرے نمایاں امیدوارایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ اور مصالحتی کونسل کے موجودہ سیکریٹری محسن رضائی ہیں۔چوتھے صدارتی امیدوار رکن پارلیمان امیرحسین غازی زادہ ہاشمی ہیں۔وہ نسبتاً کم زور سیاست دان خیال کیے جاتے ہیں اور مذکورہ تینوں امیدواروں کے مقابلے میں کوئی زیادہ معروف بھی نہیں۔