.

غزہ میں حالات بگڑنے سے قبل صورت حال قابو کی جائے : اسرائیل کا مصر سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی نئی حکومت نے زور دیا ہے کہ جارحیت کا سلسلہ روکا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں فائر بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ یہ فائر بندی اسرائیل اور حماس کے بیچ 11 روز کی شدید لڑائی کے بعد تل ابیب اور فلسطینی گروپوں کے درمیان میں طے پائی تھی۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق اسرائیل نے قاہرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے قبل کہ غزہ کی پٹی میں صورت حال تیزی سے بگڑے وہاں امن کو بحال کیا جائے۔

اسرائیل نے فائر بندی کے آغاز کے تقریبا چار ہفتے بعد کل منگل کے روز گنجان آباد غزہ کی پٹی کو پہلی مرتبہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی غزہ کی پٹی سے آتشی غباروں کے پھینکے جانے کے جواب میں کی گئی۔

اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق اس کے لڑاکا طیاروں نے غزہ میں عسکری کمپاؤنڈز پر حملہ کیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنوب میں کھیتوں کی سمت آتشی غبارے چھوڑے گئے تھے جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔

اسرائیی فوج نے باور کرایا ہے کہ وہ لڑائی سمیت تمام منظرناموں کے لیے تیار ہے۔

غزہ پر اسرائیل کے حالیہ حملے سے چند گھنٹے قبل ہزاروں اسرائیلیوں نے بیت المقدس شہر میں اولڈ ٹاؤن میں باب العامود کی سمت مارچ کیا۔ انہوں نے اسرائیلی پرچم تھام رکھے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے مغربی دیوار کا رخ کیا۔ اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

اس موقع پر اسرائیلی فوج نے اپنی نفری کو بڑھا دیا اور غزہ کی پٹی سے کسی بھی ممکنہ راکٹ حملے کے اندیشے کے سبب اپنا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم تعینات کر دیا۔

گذشتہ روز ہونے والی مذکورہ ریلی گذشتہ ماہ 10 مئی کو مقرر تھی۔ یہ ریلی اسرائیلیوں کی جانب سے "یوم القدس" منائے جانے کے سلسلے میں منعقد ہونا تھا۔

یاد رہے کہ اسرائیل پورے مشرقی بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت شمار کرتا ہے۔ اس نے 1967ء کی جنگ میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں مذکورہ علاقے کو اسرائیلی ریاست میں ضم کر لیا۔ اسرائیل کے اس اقدام کو بین الاقوامی یا عرب سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔