.

’’امریکا مشرقِ اوسط سے ازکارِرفتہ میزائل شکن بیٹریوں کوہٹارہا ہے،پالیسی تبدیل نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سفارت کاروں اور حکام کا کہنا ہے کہ مشرق اوسط کے ممالک سے میزائل شکن بیٹریوں کو ہٹانے کا فیصلہ خطے کے روایتی اتحادیوں سے کنارہ کشی کی کسی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ انھیں بعض میکانیکی اموراور ازکار رفتہ ہونے کی وجہ سے ہٹایا جارہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کی ترجمان کمانڈر جیسیکا ایل مکنولٹی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’وزیر دفاع نے مرکزی کمان کے کمانڈر کو موسم گرما میں خطے سے بعض فوجیوں کے انخلا اور دفاعی تنصیبات کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ان میں سے بعض فضائی دفاعی اثاثوں کو انتہائی ضروری دیکھ بھال اورمرمت کے لیے امریکا واپس بھیجا جائے گا اور کچھ کو دوسرے علاقوں میں دوبارہ نصب کیا جائے گا۔‘‘

بائیڈن انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے جمعہ کو وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتایا تھاکہ عراق، کویت، اردن اور سعودی عرب میں نصب آٹھ پیٹریاٹ میزائل شکن بیٹریاں ہٹائی جارہی ہیں کیونکہ امریکا کو روس اور چین کی جانب سے اس سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

لیکن بعض امریکی عہدے داروں اورسفارت کاروں نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل بیٹریوں کو ازکاررفتہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی ہٹانے پر غور کیا جارہا تھا اور خطے میں موجود فوجیوں کو بھی ازسرنو معمول کی تبادلے کے تحت تعینات کی جارہی ہے۔

جون کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے یہ اطلاع دی تھی کہ سعودی عرب میں 2742 اور اردن میں 2976 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عراق میں دو ہزار سے زیادہ فوجی موجود ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق اوسط کے متعدد ممالک سے سیکڑوں امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیاجائے گا اور ان کی جگہ افغانستان سے واپس بلائے جانے والے فوجیوں کو دوبارہ تعینات کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کویت میں واقع کیمپ عارفجان اور علی السالم ایئربیس پر 13,500 کے قریب فوجی موجود ہیں جبکہ کویت سے زیادہ امریکی افواج جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا میں تعینات ہیں۔

پینٹاگان، محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے مسلسل یہ باور کرایاجارہا ہے کہ امریکا کو روس اور چین سے زیادہ خطرات لاحق ہیں لیکن دوسری جانب ایران اس کا مُنھ چڑا رہا ہے۔خاص طور پرعراق اور یمن میں اس کے آلہ کار مسلح گروپ امریکی فوجیوں اوراس کے اتحادیوں کوحملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

تاہم مکنولٹی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے خطے میں مناسب طاقت کو مضبوط انداز میں برقرار رکھا ہوا ہے اور ہم مشرق اوسط میں اپنی فوجوں کو فوری طور پر واپس لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے خطے میں امریکی اتحادیوں اور شراکت داروں کو بھی یہ تسلی دی ہے کہ واشنگٹن ان کے ساتھ قریبی دفاعی مشاورت جاری رکھے گا۔

انھوں نے کہا کہ محکمہ دفاع نے مشرق اوسط میں ہزاروں فوجیوں کو تعینات کررکھا ہے۔وہ امریکا کے قومی مفادات کے تحفظ اور علاقائی شراکت داروں کی حمایت کے لیے جدید ترین فضائی طاقت اورسریع الحرکت بحری قوت سے لیس ہیں۔