.

میانمار کے خلاف اقوام متحدہ کی قرار داد ، رکن ممالک اسلحہ نہ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کی شام ایک قرار داد میں میانمار میں فوجی بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار کو ہتھیار فروخت نہ کریں۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے اس قرار داد پر عمل کرنا لازم نہیں ہے۔ میانمار کے منحرف سفیر نے اپنا ووٹ اس قرار داد کے حق میں دیا۔ تاہم اقوام متحدہ کا موقف میانمار پر بین الاقوامی سطح کی پابندی عائد کرنے تک نہیں پہنچا۔

جنرل اسمبلی میں 119 ممالک نے قرار داد کے متن کی تائید کی جب کہ 36 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ان میں چین شامل ہے جو میانمار کا اولین حامی ملک ہے۔ صرف ایک ملک بیلا روس نے قرار داد کے خلاف ووٹ دیا۔

واضح رہے کہ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فوجی انقلاب یا بغاوت کی مذمت میں قرار داد جاری کرے یا متعلقہ ملک کو اسلحہ کی فراہمی پر روک لگانے پر زور دے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جنرل اسمبلی میں میانمار کی نمائندگی سفیر کیوائی مو تون کر رہے ہیں۔ انہیں رواں سال فروری میں فوجی بغاوت کے بعد برطرف کر دیا گیا تھا تاہم وہ ابھی تک فوجی کونسل کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی ذمے داریاں پوری کر رہے ہیں۔ اس طرح میانمار نے خود اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا۔ ووٹنگ کے بعد مذکورہ سفیر نے افسوس کا اظہار کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے اس فیصلے میں تین ماہ گزار دیے اور اب بھی ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی کے حوالے سے واضح پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ووٹنگ میں حصہ لینے سے منع کر دینے والے ممالک میں مصر، روس، مالی اور ایران بھی ہیں۔

اقوام متحدہ میں یورپی یونین کے سفیر اولوف اسکوگ کے مطابق یہ میانمار کی صورت حال کی اب تک کی وسیع ترین عالمی مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرار داد "ایک بھرپور اور سخت پیغام ہے۔ یہ فوجی کونسل کی قانونی حیثیت کو ختم کرتی ہے اور میانمار کے عوام کے خلاف اس کونسل کی جانب سے سنگین خلاف ورزیوں اور پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے"۔

قرار داد میں زور دیا گیا ہے کہ میانمار میں جمہوریت کی واپسی کو یقینی بنایا جائے اور اس کی شہری قیادت کو رہا کیا جائے۔

ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ "ہمیں جمہوریت کی واپسی کے لیے سازگار حالات فراہم کرنا ہوں گے"۔

قرار داد کے متن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسانی امداد کے بنا کسی رکاوٹ میانمار پہنچنے کو یقینی بنایا جائے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے نزدیک "جنرل اسمبلی کی قرار داد اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے ایک واضح امر کا مطالبہ کرتی ہے ،،، وہ ہے میانمار کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دینا"۔

ادھر اقوام متحدہ میں برطانیہ کی سفیر باربرا وڈورڈ کا کہنا ہے کہ "جنرل اسمبلی کی قرار داد اس بات کا مظہر ہے کہ دنیا اس وقت میانمار کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے نہ کہ فوج کے ساتھ جس نے نہتے عوام کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے"۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال یکم فروری کو میانمار میں فوج کے مکمل طور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں 860 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔