.

لبنانی بنکوں کے بحران میں یمنی رقوم بھی پھنس گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے بنکوں کو درپیش مالیاتی بحران سے نہ صرف لبنانی صارفین اور سرمایہ کار متاثر ہوئے ہیں۔ لبنانی بنکوں نے اپنے لیکویڈیٹی انخلا میں کمی کی اور ڈالر کے کھاتے رکھنے والے صارفین کے لیے غیر ملکی کرنسی کے لین دین کو روکا۔ یہاں تک کہ لبنانی بینکوں میں یمنی بینکوں کی جمع کی گئی رقوم بھی متاثر ہوئی ہیں۔

اس تناظر میں ایک یمنی وفد نے گذشتہ ہفتے لبنان کے دارالحکومت بیروت کا دورہ کیا تاکہ یمن کے بینکوں سے وابستہ فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔ لبنانی بنکوں میں انداز 250 ملین سے زیادہ رقوم جمع ہیں جو 2019 کے آخر میں بحران سے پہلے سے بنک کھاتوں میں موجود ہیں۔

یمنی بینک کے فنڈز

یمن کے مرکزی بینک میں اکاؤنٹس کے ڈائریکٹر جنرل یاسر القباطی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ رقم تمام یمنی بینکوں کی ہے۔یہ وہ رقم ہے جو بیروت کے ’بی او بی‘ بینک میں اکاؤنٹس میں منتقل کردی گئی ہے۔

انہوں نےکہا کہ ابھی تک اس رقم کی ادائیگی کے لئے کسی خاص میکانزم پر اتفاق نہیں ہوا ہے لیکن یمنی وفد نے کچھ دن قبل لبنانی سنٹرل بینک کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں فنڈز کی بحالی کے طریقہ کار کے بارے میں تجاویز پیش کی تھیں۔

لبنان بنک کے گورنر ریاض سلامہ نے کہا کہ ’’بینک آف بیروت‘‘ کے عہدیداروں کے سامنے یمنی رقوم کی واپسی کےطریقہ کار کا میکا نزم پیش کریں گے۔