.

جرمنی میں روسی سائنس دان ماسکو کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے ایک روسی سائنس دان کو ماسکو کو حساس معلومات منتقل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔اس پرجرمنی کی ایک یونیورسٹی سے حساس معلومات نقد رقوم کے بدلے میں ماسکو کو فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹرز نے سوموار کو ایک بیان میں گرفتار مشتبہ سائنس دان کی شناخت صرف النوراین کے نام سے کی ہے اور بتایا ہے کہ اس کو گذشتہ جمعہ کو روس کی ایک خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

وہ اکتوبر2020ء سے گرفتاری تک روس کی خفیہ ایجنسی کے لیےکام کرتا رہا تھا۔وہ جرمنی کی ایک جامعہ کے شعبہ میں نیچرل سائنسز اورٹیکنالوجی میں معاونِ تحقیق کے طور پر کام کررہا تھا لیکن اس جامعہ کا نام نہیں بتایا گیا۔

جرمنی کے وفاقی پراسیکیوٹروں کو یقین ہے کہ اس سائنس دان نے اکتوبر2020ء سے جون 2021ءتک روسی انٹیلی جنس کے ایک رکن سے تین مرتبہ ملاقات کی تھی اور دومواقع پر یونیورسٹی کی حدود سے معلومات اس کارندے تک پہنچائی تھیں۔اس ’’خدمت‘‘ کے بدلے میں اس نے نقد رقم وصول کی تھی۔

جرمن حکام نے گرفتاری سے قبل اس روسی کے گھر اور کام کی جگہ کی تلاشی لی تھی۔اس کو ہفتے کے روز ایک جج کے روبروپیش کیا گیا تھا اور جج نے مزید تحقیقات کے لیے اس کو حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس روسی جاسوس کی گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب روس اور جرمنی کے تعلقات میں شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔بالخصوص روسی صدرولادی میر پوتین کے ناقد الیکسئی نفالنی کی حراست کے معاملے پردونوں ملکوں میں تناؤ پایا جاتا ہے۔نفالنی ماضی میں ملک میں زہرخورانی کا شکار ہونے کے بعد برلن میں زیرعلاج رہے تھے۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل کی حکومت نے روس پرجزیرہ نما کریمیا کو ضم کرنے پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔اس ریاست میں روس نوازعلاحدگی پسندوں اور مقامی فورسز کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔

تاہم مختلف محاذوں پر اختلافات اور بین الاقوامی تنقید کے باوجود جرمنی نے نورڈ اسٹریم 2 پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔اس کی تکمیل کے بعد روس سے جرمنی کو قدرتی گیس کی دُگنا مقدار میں ترسیل ہوگی۔