.

ایران نے امریکا کی صدارتی انتخابات پرتنقید کوداخلی امور میں مداخلت قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا کی صدارتی انتخابات پرتنقید کو مسترد کردیا ہے اور اس کو اپنے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

امریکا نے کہا ہے کہ ایران میں جمعہ کو منعقدہ صدارتی انتخابات آزاد اور شفاف نہیں تھے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ایران میں ابراہیم رئیسی کو ایک خودساختہ عمل کے ذریعے صدارتی انتخاب میں جتوایا گیا ہے۔‘‘

مگرایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے اس تنقید کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ہم اس بیان کو اپنے داخلی امور میں مداخلت سمجھتے ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔‘‘

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’امریکی حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ایران یا کسی اورملک میں انتخابی عمل کے بارے میں کوئی گفتگو کرسکے۔‘‘

ایران میں قدامت پسند مذہبی پیشوا ابراہیم رئیسی نے صدارتی انتخابات میں 61.95 فی صد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔ان انتخابات میں ایران کی تاریخ میں سب سے کم ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ابراہیم رئیسی نے قریباً ایک کروڑ80 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ان انتخابات میں نصف سے زیادہ اہل ووٹروں نے سرے سے حصہ ہی نہیں لیا ہے۔وہ انتخابی عمل سے مطمئن نہیں تھے اور بظاہرانھوں نے بیرون ملک بیٹھے حزب اختلاف کے گروپوں کی آوازوں پر کان دھرے ہیں اور اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے گھروں ہی سے نہیں نکلے ہیں۔

ووٹروں کی انتخابی عمل میں عدم دلچسپی کی ایک اور وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ایران کی شورائے نگہبان نے اصلاح پسند امیدواروں کو نااہل قراردے دیا تھا۔اس لیے اصلاح پسندووٹر نے کنارہ کشی ہی میں عافیت جانی ہے۔

صدارتی انتخاب میں صرف چار امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ایرانی وزارت داخلہ کے مطابق انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف 48۰8 فی صد رہی ہے اور کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 37 لاکھ مستردکردیے گئے ہیں۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ناراض ووٹروں نے بیلٹ پیپرخالی چھوڑ دیا تھایا سب امیدواروں کے آگے نشان لگا دیا تھا۔یوں انھوں نے اپنا ووٹ ضائع کردیا ہے۔