.

ترکی : صرف 25 روز میں 15 پولیس اہل کاروں کی خود کشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے سرکاری طور پر ایک اعلان میں بتایا ہے کہ آخری 25 روز کے دوران میں پولیس کے 15 اہل کار خود کشی کر چکے ہیں۔ یہ تناسب 2021ء کے آغاز سے اپنی جان لینے والے دیگر 25 پولیس اہل کاروں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

ترکی کی پولیس انجمن کے سربراہ فاروس سیزر نےHalk Tv چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک 40 پولیس اہل کار خود کشی کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ ان میں سے 15 نے گذشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران میں اپنی زندگیاں ختم کیں۔

اگرچہ گذشتہ برسوں کے دوران میں ترکی میں سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں میں خود کشی کے رجحان میں کمی واقع ہوئی تاہم رواں سال خود کشی کرنے والے اہل کاروں کی تعداد 2013ء میں ریکارڈ کی گئی تعداد کے قریب آ رہی ہے۔ اُس برس 57 پولیس اہل کاروں نے خود کشی کی تھی۔ یہ ملکی تاریخ میں کسی بھی سال کا اعلی ترین تناسب ہے۔

سیزر نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ بد انتظامی اور کام کا طویل دورانیہ بعض افسران کی جانب سے اپنی زندگیاں ختم کرنے کے بنیادی اسباب ہیں۔ پولیس اہل کار ریاست کے دیگر شہری ملازمین کے مقابلے میں زیادہ طویل ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔

ترکی میں پولیس اہل کار ہر ماہ کم از کم 240 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ سیزر کے مطابق اس کے مقابل شہری ملازمین پورے ماہ میں 160 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

سیزر نے مزید بتایا کہ بعض پولیس اہل کار ایک ماہ میں 400 گھنٹوں تک کام کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر بتایا کہ بعض مرتبہ ایسے غیر ضروری مشن پر 15 افسران کو لگا دیا جاتا ہے جسے صرف 3 افراد بھی انجام دے سکتے ہیں۔ یہ بد انتظامی کی واضح مثال ہے۔

ترکی کے ادارہ شماریات نے پولیس اہل کاروں میں خود کشی کے اوسط میں اضافے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ترک ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پولیس اہل کاروں کو حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے خلاف جاری سیکورٹی آپریشنز کی مہموں کے نتیجے میں کام کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ مذکورہ سیکورٹی کارروائیاں جولائی 2016ء میں صدر ایردوآن کے خلاف فوجی انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے جاری ہیں۔