.

امریکا کا ویب سائٹس پر’قبضہ‘جوہری مذاکرات کے لیے کوئی تعمیری اقدام نہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کا اس کے سرکاری میڈیا کی ویب سائٹس پر ’قبضہ‘ اور ضبطی ویانا میں جاری مذاکرات کے لیے کوئی تعمیری اقدام نہیں ہے۔

ایرانی صدر کے دفتر کے ڈائریکٹرمحمود واعظی نے بدھ کوصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم امریکا کی اس غلط اورگم راہ کن پالیسی کی مذمت کےلیے تمام بین الاقوامی اور قانونی ذرائع بروئے کار لا رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ’’جب جوہری ایشو پرایک نئی ڈیل کے لیے مذاکرات جاری ہیں تو ایسے میں یہ اقدام بظاہر تعمیری نہیں ہے۔‘‘

امریکا نے منگل کے روز ایران کے اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی 33 ویب گاہوں اور تہران کی حمایت یافتہ کتائب حزب اللہ ملیشیا کی تین ویب سائٹس کو ضبط کر لیا تھا۔

اس کے علاوہ امریکا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایران کے دوسرکاری خبری گروپوں پریس ٹی وی اور العالم کی ویب سائٹس اوریمن کی حوثی ملیشیا کے زیرانتظام المسیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا تھااور ان کے صفحہ اوّل پر اپنا بیان پوسٹ کردیا تھا۔

ان میں سے ہر ویب سائٹ پر ایک صفحہ ہی ظاہر ہورہا تھااور اس پر یہ لکھا تھا:’’اس (ویب سائٹ) کو امریکا کی حکومت نے ضبط کر لیا ہے۔‘‘اس کے ساتھ ایران کے خلاف امریکا کی عاید کردہ پابندیوں کے قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے اور نیچے وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی) اور امریکا کے محکمہ تجارت کی مہر لگی ہوئی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نشریات (آئی آر آئی بی)نے ایک بیان میں کہا ہے کہ العالم کے علاوہ بعض دوسری ویب گاہیں بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔ان میں فلسطین سے متعلق نشریات اور عربی زبان میں مذہبی اور ثقافتی چینل کی ویب سائٹ بھی شامل ہے۔

آئی آرآئی بی نے اس کے ردعمل میں امریکا پراظہاررائے کی آزادی کو دبانے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ وہ مزاحمت نوازمیڈیا کو بلاک کرنے کے عمل میں اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ شامل ہوگیا ہے۔اس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ میڈیا ذرائع خطے میں امریکی اتحادیوں کے جرائم کو بے نقاب کررہے تھے۔