.
ایران جوہری معاہدہ

ایران سے نمٹنے کے لیے خطے میں اپنے شراکت داروں سے مشاورت کریں گے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران سے نمٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے خطے میں اپنے حلیفوں اور شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کرے گی۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسے پورا اعتماد ہے کہ متبادل صورت میں جوہری معاہدے کی طرف لوٹنے پر معاہدے سے باہر معاملات کی درستی کے لیے طریقے موجود ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جوہری معاملے سے ہٹ کر واشنگٹن کے دیگر اندیشوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان میں ایران کا خطے میں اپنے ایجنٹوں کے لیے سپورٹ شامل ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ موضوع آئندہ ہفتے اطالیہ میں وزارتی ملاقاتوں میں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کے ایجنڈے میں شامل ہو گا۔

امریکی وزارت خارجہ نے باور کرایا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ مشترکہ جامع عملی منصوبے (جوہری معاہدے) کی مکمل پاسداری کی جانب لوٹ جانا کافی نہیں۔ اس لیے کہ بعض دیگر قابل تشویش امور بھی ہیں جن میں ایرانی میزائلوں کا پھیلاؤ شامل ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزارت انصاف نے منگل کے روز اعلان میں بتایا تھا کہ امریکا نے درجنوں ویب سائٹس کا پتہ چلایا ہے جن کو ایران اور خطے میں اس کی ملیشیائیں گمراہ کن معلومات پھیلانے کے واسطے استعمال کر رہی ہیں۔ وزارت عدل کے مطابق ان میں 33 ویب سائٹس کو ایرانی یونین آف اسلامی ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن اور 3 ویب سائٹس کو ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے گروپ چلا رہے ہیں۔